Main Icon

باب :چاند دیکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1973

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ،إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْ ذٰلِكَ الْيَوْمَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين،إلا أن يكون رجل كان يصوم صوما فليصم ذلك اليوم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی رمضان سے پہلے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے ۱؎مگر ہاں جو کوئی روزہ رکھتا ہو تو وہ اس دن روزہ رکھے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رمضان کے چاند سے ایک دو دن پہلے نفلی روزے نہ رکھے تاکہ نفل و فرض مخلوط نہ ہوجائیں جیسے فرض نماز سے ملا کر نفل نہ پڑھے بلکہ وقفہ کرکے جگہ تبدیل کرکے پڑھے یا اس لیے نہ ملائے تاکہ لوگوں کو رمضان کا چاند ہونے کا شبہ نہ ہوجائے لوگ سمجھیں کہ شاید اس نے چاند دیکھ لیا ہے یہ ممانعت تنزیہی ہے وہ بھی عوام کے لیے،خاص علماء اگر روزہ رکھ لیں اورکسی پر ظاہر نہ کریں تو درست ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے ماہ رمضان سے ملادیتے تھے۔(لمعات و مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ قضاء اور نذر کے روزے ان دنوں میں رکھنا بلاکراہت جائز ہے۔
۲
؎یعنی اگر کسی مسلمان کی عادت ہے کہ ہر سوموار یا ہر جمعرات یا جمعہ کو نفلی روزہ رکھا کرتا ہے اور اتفاقًا انتیسویں شعبان اسی دن آئی تو اسے بلاکراہت یہ نفلی روزہ رکھ لینا جائز ہے کہ یہ شک کے دن کا روزہ نہیں بلکہ اپنی عادت کے دن کا روزہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی خاص دن میں ہمیشہ روزہ رکھنا یا نوافل پڑھنا یا خیرات کرنا جائز ہے،نہ یہ تعین حرام ہے اور نہ یہ تقرر مکروہ لہذا ہر ماہ کی بارہویں میلاد شریف کرنا،گیارہویں تاریخ کو غوث پاک کی فاتحہ کرنا،اس میں نوافل پڑھنا،ختم قرآن کرنا،صدقہ و خیرات کرنا جائز اور باعث ثواب ہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ نفلی عبادات میں مقرر کرنا حرام ہے،خود ان بزرگوں کے ہاں دینی مدارس کی تعطیلیں و امتحانات مقرر دنوں میں ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1973