Main Icon

باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1158

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلّٰى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يَعُدْ لَهُمَا . رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن نافع قال: إن عبد الله بن عمر كان يقول: من صلى المغرب أو الصبح ثم أدركهما مع الإمام فلا يعد لهما . رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الله ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو مغرب یا فجر پڑھ لے پھر انہیں امام کے ساتھ پالے تو دوبارہ نہ پڑھے ۱؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فجر و مغرب پڑھ چکا ہو تو امام کے ساتھ دوبارہ نہ پڑھے کیونکہ فجر کے نفل ممنوع اور تین رکعت نفل نہیں ہوتے لہذا اسے دوبارہ فرض ہی پڑھنے پڑیں گے اور فرض دوبارہ ایک دن میں ہوتے نہیں لہذا نہ پڑھے۔ اس حدیث نے گزشتہ تمام ان احادیث کی شرح کردی جہاں امام کے ساتھ دوبارہ پڑھ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ وہاں صرف ظہر و عشاء مراد ہیں۔خیال رہے کہ یہ حدیث موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ بات قیاس سے نہیں کی جاسکتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1158