Main Icon

باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1154

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهٗ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا من ذٰلِكَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلَنَا عَنْ ذٰلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَذٰلِكَ لَهٗ سَهْمُ جَمْعٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن رجل من أسد بن خزيمة أنه سأل أبا أيوب الأنصاري قال: يصلي أحدنا في منزله الصلاة ثم يأتي المسجد وتقام الصلاة فأصلي معهم فأجد في نفسي شيئا من ذلك فقال أبو أيوب: سألنا عن ذلك النبي صلى الله عليه وسلم قال: «فذلك له سهم جمع» . رواه مالك وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے ایک شخص اسد ابن خزیمہ سے ۱؎کہ انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری سے پوچھا کہا کہ ہم میں سے کوئی اپنی جگہ نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور نماز کی تکبیر ہو تو کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھ لوں میرے دل میں اس سے کچھ شبہ ہے ۲؎ابو ایوب نے فرمایا کہ ہم نے اس کے متعلق نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا آپ نے فرمایا یہ اس کے لیئے ڈبل حصہ ہے ۳؎(مالک و ابودؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ایک قبیلہ کا نام ہے جس کا مورث اعلیٰ اسد ابن خزیمہ ابن مدر کہ ابن الیاس ابن مضر ہے لہذا یہ مضر کا ایک بطن ہے۔
۲
؎شبہ یہ ہے کہ جب گھر میں ایک بار نماز پڑھ لی تو دوبارہ کیوں پڑھوں ایک دن میں ایک نماز دوبارہ نہیں ہوا کرتی۔
۳
؎یعنی یہ جماعت کی نماز نفل ہوگی نہ کہ فرض لہذا ایک نماز دوبار نہ ہوئی اور اس سے تمہیں جماعت کا ثواب نفع میں مل جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1154