Main Icon

باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1153

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيه أَنَّهٗ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى وَرَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهٖ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟» فَقَالَ: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا جِئْتَ الْمَسْجِدَ وَكُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ

وعن بسر بن محجن عن أبيه أنه كان في مجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأذن بالصلاة فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ورجع ومحجن في مجلسه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما منعك أن تصلي مع الناس؟ ألست برجل مسلم؟» فقال: بلى يا رسول الله ولكني كنت قد صليت في أهلي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا جئت المسجد وكنت قد صليت فأقيمت الصلاة فصل مع الناس وإن كنت قد صليت» . رواه مالك والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بسر ابن محجن سے وہ اپنے والد سے راوی کہ وہ ایک مجلس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نماز کی اذان ہوئی ۱؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور واپس ہوئے محجن اپنی جگہ رہے ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کون سی شئے مانع ہوئی کیا تم مسلمان نہیں۲؎عرض کیا ہاں یا رسول الله لیکن میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا۳؎تب ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مسجد میں آؤ حالانکہ نماز پڑھ چکے ہو اور نماز کی تکبیریں کہی جائیں تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لو اگرچہ پہلے پڑھ چکے ہو۴؎(مالک و نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ آپ داخل مسجد میں حضور کے ساتھ تھے،اذان ہوتے حضور نے وہیں نماز پڑھی یہ وہیں بیٹھے رہے اسی بنا پر حضور کا ان پر وہ عتاب ہوا جو آگے آرہا ہے جیسا کہ عرض کیا جائے گا۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں بیٹھا رہنا سخت گناہ بلکہ کفار کی علامت ہے یا تو بہ نیت نفل جماعت میں شریک ہوجائے ورنہ تکبیر سے پہلے ہی وہاں سے چلا جائے ۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ کیا تم مسلمان نہیں اپنی بے علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہی بتانے کے لیئے ہے کہ یہ علامت کفار کی ہے۔
۳
؎یہ سمجھ کر کہ مسجد میں نماز ہوچکی ہوگی۔ممکن ہے کہ یہ کسی دور کے محلہ کے باشندے ہوں اور اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھ کر آئے ہوں۔بہرحال ان صحابی پر یہ اعترا ض نہیں کہ انہوں نے بغیر جماعت گھر میں نماز کیوں پڑھی۔
۴
؎یہ حکم استحبابی ہے اور یہ نماز نفل ہوگی لہذا انہیں اوقات میں ہوسکے گی جن میں بعد فرض نفل جائز ہیں یعنی ظہر و عشاء۔خیال رہے کہ یہ جماعت اولیٰ کے آداب ہیں دوسری جماعتیں ہوتی رہیں تم وہاں بیٹھے رہو کیونکہ ابھی حدیث میں گزر چکا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے صدیق اکبر کو حکم دیا کہ فلاں کے ساتھ نماز پڑھ لو وہ جماعت ہوتی رہی اور سر کا رمع صحابہ مسجد میں تشریف فرما رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1153