Main Icon

باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1151

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلٰى قَوْمِهٖ فَيُصَلِّي بِهِمْ الْعِشَاءَ وَهِيَ لَهٗ نَافِلَةٌ.

وعنه قال: كان معاذ يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء ثم يرجع إلى قومه فيصلي بهم العشاء وهي له نافلة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے عشاء کی پھر اپنی قوم میں آتے انہیں عشاء پڑھاتے ان کی زائد نماز ہوتی ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہھِیَکا مرجع آپ کی پہلی نماز ہے جو حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی یعنی پہلی نماز نفل ہوتی تھی اور دوسری فرض اور اگر اس کا مرجع دوسری نماز ہو تو نافلۃ کے لغوی معنی مراد ہوں گے یعنی زائد۔ قرآن کریم نے اس معنی میں فرض نماز کو بھی نفل فرمایا ہے: "فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ"حضور صلی الله علیہ وسلم پر تہجد فرض تھی مگر اس کو نافلہ بمعنی زائد ہ فرمایا گیا اور اگر مان لیا جائے کہ آپ اولًا فرض ہی پڑھتے تھے بعد میں نفل تو یہ آپ کا اجتہاد تھا اسی لیئے بعض روایات میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا اے معاذ یا تم میرے ساتھ نماز پڑھو یا اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھاؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1151