Main Icon

باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1155

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَزِيدِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاِنِّي جَالِسًا فَقَالَ: «أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيْدُ؟» قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَسْلَمْتُ. قَالَ: «وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ ؟» قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي أَحْسِبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ. فَقَالَ: «إِذَا جِئْتَ الصَّلَاةَ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهٰذِه ٖمَكْتُوْبَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن يزيد بن عامر قال: جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة فجلست ولم أدخل معهم في الصلاة فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم واني جالسا فقال: «ألم تسلم يا يزيد؟» قلت: بلى يا رسول الله قد أسلمت. قال: «وما منعك أن تدخل مع الناس في صلاتهم ؟» قال: إني كنت قد صليت في منزلي أحسب أن قد صليتم. فقال: «إذا جئت الصلاة فوجدت الناس فصل معهم وإن كنت قد صليت تكن لك نافلة وهذه مكتوبة» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یزید ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز میں تھے میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ نماز میں شامل نہ ہوا ۱؎جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے میں بیٹھا ہوا تھا تو فرمایا اے یزید تم مسلمان نہیں میں نے عرض کیا ہاں یارسول الله میں مسلمان ہوچکا فرمایا کہ تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز میں شرکت سے کس نے منع کیا ۲؎میں نے عرض کیا کہ میں اپنی جگہ میں نماز پڑھ چکا ہوں میں سمجھا کہ آپ حضرات نماز پڑھ چکے ۳؎تو فرمایا کہ جب تم نماز کو آؤ اور لوگوں کو پاؤ ان کے ساتھ نماز پڑھو اگرچہ پڑھ چکے ہو یہ نماز تمہاری نفل ہوجائے گی اور وہ فرض ۳؎(ابودؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ اپنے محلے کی مسجد میں باجماعت نماز پڑھ آیا تھا یا گھر میں اکیلے پڑھ چکا تھا یہ سمجھ کر مجھے دیر ہوگئی کہ مسجد نبوی میں نماز ہوچکی ہوگی۔
۲
؎یعنی جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں علیحدہ بیٹھا رہنا کفار کی علامت ہے تم نے ایسے کیوں کیا،اس سوال و جواب سے اظہار ناپسندیدگی مقصود ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم ہر شخص کے دلی حالات سے خبردار ہیں۔فرماتے ہیں احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں،جسے پتھروں کے دلوں کی خبر ہو اسے انسانوں کے دل کی خبر کیسے نہ ہوگی۔
۳
؎یعنی ترک جماعت کا ارادہ نہ تھا صرف غلط فہمی ہوگئی اس لیئے معذور ہوں۔
۴
؎یعنی جو اکیلے پڑھ آئے ہو وہ تو فرض ہوگی اور جو جماعت سے پڑھی وہ نفل ہوگی مگر یہ حکم نماز جمعہ کے لیئے نہیں کیونکہ اگر جمعہ کے دن کوئی اپنے گھر میں ظہر پڑھ لے پھر جمعہ میں آجائے تو اس کی ظہر باطل ہے اب نماز جمعہ فرض۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1155