Main Icon

باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1152

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ يَزِيْدِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهٗ حَجَّتَهٗ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ وَانْحَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهٗ قَالَ: «عَلَيَّ بِهِمَا» فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» . فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

عن يزيد بن الأسود قال: شهدت مع النبي صلى الله عليه وسلم فصليت معه حجته صلاة الصبح في مسجد الخيف فلما قضى صلاته وانحرف فإذا هو برجلين في آخر القوم لم يصليا معه قال: «علي بهما» فجيء بهما ترعد فرائصهما فقال: «ما منعكما أن تصليا معنا؟» . فقالا: يا رسول الله إنا كنا قد صلينا في رحالنا. قال: «فلا تفعلا إذا صليتما في رحالكما ثم أتيتما مسجد جماعة فصليا معهم فإنها لكما نافلة» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یزید ابن اسود سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے حج میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھی جب آپ نماز پوری کرچکے اور پھر ے تو آخری قوم میں دو شخص تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ ساتھ نماز نہ پڑھی فرمایا انہیں میرے پاس لاؤ انہیں لایا گیا ان کے کندھے کانپ رہے تھے ۲؎فرمایا کہ تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا انہوں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم اپنی منزلوں میں نماز پڑھ چکے تھے فرمایا ایسا نہ کرو جب اپنی منزلوں میں نماز پڑھ لو پھر جماعت کی مسجد میں آؤتو ان کی ساتھ بھی پڑھ لو کہ وہ تمہارے لیئے نفل ہوجائے گی۳؎(ترمذی، ابودؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،آپ کا شمار اہل طائف میں ہے کوفہ میں آپ کی احادیث بہت زیادہ شائع ہوئیں۔
۲
؎حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہیبت خداداد کی وجہ سے جیسا کہ احادیث میں ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو ہیبت بھی دی گئی اور محبوبیت بھی جو پہلی بار حاضر ہوتا مرعوب ہوجاتا جو حاضر رہتا وہ آپ کا عاشق جانباز بن جاتا۔۳؎یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ وجوبی اور اس میں وہ نمازیں مراد ہیں جن کے بعد نفل جائز ہے ہر نماز مراد نہیں اگر ہر نماز مراد ہو تو یہ حدیث منسوخ ہے ان احادیث سے جن میں فرمایا گیا کہ فجر و عصر کے بعد نوافل نہ پڑھو، نیز اسی باب کے آخر میں آرہا ہے کہ جو فجر یا مغرب پڑھ چکا ہو پھر جماعت پالے تو اس کے ساتھ نہ پڑھے۔بہرحال یہ حدیث مطلقًا قابل عمل نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1152