Main Icon

باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1156

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهٗ فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أَدْرِكُ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الْإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ قَالَ لَهٗ : نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ: أَيَّتُهُمَا أَجْعَلُ صَلَاْتِيْ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَذٰلِكَ إِلَيْكَ؟ إِنَّمَا ذٰلِكَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَجْعَلُ أَيَّتُهُمَا شَاءَ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن رجلا سأله فقال: إني أصلي في بيتي ثم أدرك الصلاة في المسجد مع الإمام أفأصلي معه؟ قال له : نعم قال الرجل: أيتهما أجعل صلاتي؟ قال ابن عمر: وذلك إليك؟ إنما ذلك إلى الله عز وجل يجعل أيتهما شاء. رواه مالك

حدیث ترجمہ

ر وایت ہے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے کہ کسی نے ان سے پوچھا عرض کیا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں پھر امام کے ساتھ مسجد میں نماز پاتا ہوں کیا اس کے ساتھ بھی پڑھوں فرمایا ہاں اس نے کہا ان دونوں میں سے اپنی نماز کسے سمجھوں ۱؎حضرت ابن عمر نے فرمایا یہ تمہارا کام نہیں یہ تو الله عزوجل کا کام ہے ان میں سے جسے چاہے نماز بنائے ۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس صورت میں میری فرض نماز کون سی ہوئی ؟ پہلی جو اکیلے پڑھی یا دوسری جو جماعت سے پڑھی۔ غالبًا یہ گفتگو اس صورت میں ہے کہ نمازی نے دوسری نماز میں نفل کی نیت نہ کی بلکہ مطلقًا نماز کی یا غلطی سے اسے بھی فرض ہی سمجھ کر پڑھا۔خیال رہے کہ بلا سبب فرض دوبارہ پڑھنا ممنوع ہے اسے اس ممانعت کی خبر نہ تھی اس لیئے یہ سوال کیا۔
۲
؎بعض امام فرماتے ہیں کہ اس صورت میں دونوں نمازوں میں سے ایک فرض ہے ایک نفل،یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون سی فرض ہے کون سی نفل ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،باقی آئمہ کے ہاں پہلی نماز فرض ہے اور دوسری نفل۔اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ کیا خبر کون سی نماز قبول ہوئی ہو یا ممکن ہے کہ پہلی نماز کسی وجہ سے فاسد ہوچکی ہو تجھے خبر نہ ہوئی ہو، الله تعالٰی اس نفل کو اس فرض کے قائم مقام کردے یارب قادر ہے کہ فرض کو نفل اور نفل کو فرض بنادے بہرحال دوسری نماز ہی شرعًا نفل ہے جیسا کہ ابھی احادیث میں گزر چکا، نیز حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حکام دیر سے نماز پڑھنے لگیں تو تم اکیلے نماز پڑھ لیا کرنا پھر ان کے ساتھ بھی جماعت کے ساتھ پڑ ھ لیا کرنا یہ دوسری نفل ہوجائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1156