Main Icon

باب : صور پھونکے جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5531

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُعِيدُ اللَّهُ الْخَلْقَ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: "أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ جَدْبًاثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "فَتِلْكَ آيَةُ اللَّهِ فِي خَلْقِهِ {كَذَلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْتَى} ". رَوَاهُمَا رَزِينٌ.

وعن أبي رزين العقيلي قال: قلت: يا رسول الله! كيف يعيد الله الخلق؟ وما آية ذلك في خلقه؟ قال: "أما مررت بوادي قومك جدباثم مررت به يهتز خضرا؟ " قلت: نعم. قال: "فتلك آية الله في خلقه {كذلك يحي الله الموتى} ". رواهما رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله خدا تعالٰی مخلوق کو کیسے لوٹائے گا اور اس کی خلقت میں اس کی نشانی کیا ہے ۲؎فرمایا کیا تم اپنی قوم کے جنگل میں خشک سالی میں نہیں گزرے تھے وہاں اس وقت نہ گزرے جب سبزہ سے لہلہا رہی ہیں میں نے عرض کیا ہاں فرمایا تو یہ الله کی نشانی ہے اس کی مخلوق ہیں اسی طرح الله مردے زندہ کردے گا ان دونوں کو رزین نے روایت کیا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام لقیط ابن عامر ہے ،طائف والوں سے ہیں،مؤلف نے آپ کا ذکر اسماء الرجال میں نہیں کیا۔(اشعہ،مرقات)۲؎یعنی دنیا آخرت کا نمونہ ہے آخرت میں مرے ہوئے لوگ زندہ کیے جاویں گے اس کی مثال دنیا میں کیا ہے جسے ہم اس کی دلیل بناسکیں۔۳؎سبحان الله!کیسی پاکیزہ دلیل ہے کہ خشک زمین میں بارش سے تر ہو کر سوکھے سبزہ کے ریزہ دوبارہ ہرے ہوجاتے ہیں ایسے ہی صور کی آواز سے مردوں میں جان بھی پڑ جاوے گی،قرآن مجید میں اسی مثال سے قیامت میں اٹھنے کو سمجھایا گیا ہے، دنیا کی چیزیں عالم غیب کی دلیلیں ہیں ان میں غور کرنا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5531