Main Icon

باب : صور پھونکے جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5527

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدِ الْتَقَمَهُ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ!وَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: "قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ ونِعمَ الْوَكِيلُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كيف أنعم وصاحب الصور قد التقمه، وأصغى سمعه، وحنى جبهته، ينتظر متى يؤمر بالنفخ". فقالوا: يا رسول الله!وما تأمرنا؟ قال: "قولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں کیسے خوشی کروں حالانکہ صور والا فرشتہ ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور اپنے کان لگائے ہوئے ہے ۱∞؎اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے ہے انتظار کر رہا ہے کہ کب پھونکنے کا حکم دیا جاوے ۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں ۳؎فرمایا کہو ہم کو الله کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت اسرافیل منہ میں صور لیے عرش اعظم کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ملے اور میں بلا تاخیر صور پھونک دوں،جب میری آنکھیں یہ نظارہ کر رہی ہیں تو میرے دل کو چین و خوشی کیسے ہو، ادھر خوف لگا ہوا ہے۔معلوم ہوا کہ حضور کی نظریں سب کچھ دیکھتی ہیں ۔شعر
اے فروغت صبح آثار و دھور چشم تو بینندہ ما فی الصدور
خیال رہے کہ یہ فرمان عالی اظہار ِ خوف و خشیت کے لیے ہے اس لیے نہیں کہ ابھی صور پھونک جانے قیامت آجانے کا اندیشہ ہے قیامت تو اپنے وقت پرآوے گی اس سے پہلے بہت سی علامات ہوں گی خروج دجال،نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے آندھی بادل آنے پر سرکار پر خوف کے آثار ظاہر ہوجاتے تھے ہیبت الٰہی کی وجہ سے اس لیے نہیں کہ عذاب الٰہی آنے کا اندیشہ ہے،رب تعالٰی وعدہ فرماچکا ہے کہ "وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"۔۲؎کان لگانا،سرجھکانا تیار رہنے کی علامت ہے۔خیال رہے کہ یہ تیاری قیامت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے ہے اور حضرت اسرافیل علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بندہ وقت سے پہلے کام کے لیے تیار رہتا ہے۔۳؎یعنی ہم قیامت قائم ہونے پر یا مصیبتوں پر یا ہر وقت یا اب ہمارے دلوں پر بہت گھبراہٹ ہے کیا کریں کون سا عمل کریں جس سے دل کو چین ہو آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔۴؎خیال رہے کہ یہ کلمات بڑے مبارک ہیں۔جب حضرت خلیل الله نمرود کی آگ میں جارہے تھے تو آپ کی زبان شریف پر یہ ہی کلمات تھے اور جب صحابہ کرام کو خبر پہنچی کہ کفار ہمارے مقابلہ کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے بھی یہ ہی کلمات کہے، یہ کلمات مصیبتوں تکلیفوں میں بہت ہی کام آتے ہیں۔(مرقات)ہر مصیبت میں یہ کلمات پڑھنے چاہئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5527