Main Icon

باب : صور پھونکے جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5529

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ}: الصُّوْرُ،قَالَ: {الرَّاجِفَةُ}: النَّفْخَةُ الأُولَى، وَ {الرَّادِفَةُ}: الثَّانِيَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ.

عن ابن عباس قال في قوله تعالى: {فإذا نقر في الناقور}: الصور،قال: {الراجفة}: النفخة الأولى، و {الرادفة}: الثانية. رواه البخاري في ترجمة باب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا آپ نے رب تعالٰی کے اس قول کی تفسیر میں "فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ"فرمایا صور ہے ۱∞؎اورراجفہپہلی بار پھونکنا ہے اوررادفہدوسری پھونک۲؎(بخاری ایک باب کے عنوان میں)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس آیت کریمہ میںناقورکے معنی ہیں صور اورنقرکے معنی صور میں پھونکنا لہذا آیت کے معنی ہوئے جب صور میں پھونکا جاوے گا۔ناقورکے لغوی معنی ہیں کریدنے والا کھودنے والا،چونکہ صور دوبارہ پھونکنے پر قبریں اکھیڑ کر مردے باہر ہو جائیں گے اس لیے ناقور کہتے ہیں۔۲؎یعنی قرآن مجید کا فرمان "یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ"میںرا جفہسے مراد صور کا پہلا نفخہ ہے اوررادفہسے مراد دوسرا نفخہ ۔راجفہبنا ہےرجفسے بمعنی کانپنا تھرتھرانا،رادفہکے معنی ہیں پیچھے آنے والا،چونکہ پہلے نفخہ پر تمام زمین آسمان تھرتھرا کر پھٹیں گے اس لیے اس کا نامراجفہہے دوسرا نفخہ اس کے بعد ہے لہذا وہرادفہہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5529