Main Icon

باب : صور پھونکے جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5524

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى أُصْبُعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا اللَّهُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ. ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن مسعود قال: جاء حبر من اليهود إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: يا محمد! إن الله يمسك السماوات يوم القيامة على أصبع، والأرضين على أصبع، والجبال والشجر على أصبع، والماء والثرى على أصبع، وسائر الخلق على أصبع، ثم يهزهن فيقول: أنا الملك أنا الله. فضحك رسول الله -صلى الله عليه وسلم- تعجبا مما قال الحبر تصديقا له. ثم قرأ: {وما قدروا الله حق قدره والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسماوات مطويات بيمينه سبحانه وتعالى عما يشركون} متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ یہود کا ایک بڑا عالم نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آیا تو بولا اے محمد اقیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی مٹی کو ایک انگلی پر اور ساری مخلوق کو ایک انگلی پر رکھے گا پھر انہیں ملائے گا ۱∞؎پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں میں الله ہوں تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم اس عالم کے قول پر تعجب کرتے ہوئے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنسے ۲؎پھر آپ نے تلاوت کی کہ ان لوگوں نے الله کی قدرت نہ جانی ۳؎جو اس کا حق ہے اور زمین ساری اس کے قبضہ میں ہے قیامت کے دن اور آسمان لپٹے ہوئے ہیں اس کے داہنے ہاتھ میں،پاک ہے وہ اور برتر ہے اس سے جسے یہ شریک ٹھہراتے ہیں۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس عالم نے غالبًا یہ مضمون توریت شریف یا کسی اور اپنی دینی کتاب سے بیان کیا ہوگا،حضور صلی الله علیہ و سلم نے اس کی تردید نہ کی بلکہ تصدیق فرمائی لہذا درست ہے۔ان چیزوں کو انگلیوں پر رکھنے سے مراد نہایت ہی اعلٰی درجہ کی تسخیر ہے یہ ہی بتانا مقصود ہے ۔اردو میں کہتے ہیں کہ تم تو مجھ کو اپنی انگلیوں پر گھماتے ہو یعنی مجھ پر پورے پورے قابض ہو ،تمہارے اشاروں پر میں کام کرتا ہوں لہذا یہ بالکل واضح ہے اگرچہ آج بھی ہر چیز رب کے قبضہ میں ہے مگر اس دن اس کا ظہور ہوگا۔۲؎اس تبسم اور تردید نہ فرمانے سے معلوم ہوا کہ حضور انور نے اس یہودی عالم کی اس بات کی تصدیق فرمادی لہذا یہ درست ہے۔۳؎ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے تلاوت کی اور ممکن ہے کہ حضرت ابن مسعود نے تلاوت کی ہو اس پوپ کی تصدیق کے لیےما قدروا اللهمیں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے الله تعالٰی کی شان نہ جانی کہ اس کی یہ قدرتیں جانتے ہوئے اس کے لیے اولاد یا شریک مانا ایسی قدرتوں والا اولاد شریک سے پاک ہے کہ اولاد اور شریک اختیار کر نا مجبوری کی بنا پر ہوتا ہے فانی اور کمزور کو بقاء نسل اور دشمنوں کے مقابلہ کے لیے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے، یوں ہی شریک وہ اختیار کرتا ہے جو اکیلا کچھ نہ کرسکے۔۴؎زمین کے قبضہ میں ہونے اور آسمانوں کے لپٹے ہوئے ہونے کے معنی ابھی کچھ پہلے عرض کیے گئے کہ یہ حدیث یا تو متشابہات میں سے ہے یا یمین سے مراد قدرت ہے اورمطویاتکے معنی ہیں قبضہ میں ہونا اس صورت میں معنی ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5524