Main Icon

باب : صور پھونکے جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5523

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ -وَفِي رِوَايَة: يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الأُخْرَى- ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أينَ الجبَّارونَ؟ أينَ المُتَكَبِّرُونَ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يطوي الله السماوات يوم القيامة ثم يأخذهن بيده اليمنى، ثم يقول: أنا الملك أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟ ثم يطوي الأرضين بشماله -وفي رواية: يأخذهن بيده الأخرى- ثم يقول: أنا الملك أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟ ". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا ۱∞؎پھر انہیں اپنے داہنے ہاتھ میں لے گا پھر فرمائے گا کہ میں بادشا ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر والے لوگ پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے گا ۳؎پھر کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر و غرور والے لوگ ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آسمان ایسے لپیٹے جائیں گے جیسے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں، رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ۲؎ہاتھ سے مراد قدرت ہے،لپیٹنے سے مراد ان سب کو مسخر اور تابع فرمان بنالینا ہے اگرچہ آج بھی آسمان و زمین تابع فرمان ہیں مگر قیامت میں اس کا پورا پورا ظہور ہوگا۔آسمان کے لیے داہنا ہاتھ فرمانا اور زمین کے لیے بایاں ہاتھ فرمانا اس لیے ہے کہ آسمان پر کبھی کسی کی بادشاہت نہ ہوئی زمین پر بادشاہتیں لوگوں کی رہی ہیں اس لیے زمین کے لیے شمال فرمایا تاکہ اس کی زیادہ مقہوری ظاہر ہو۔(مرقات )کہا جاتا ہے کہ یہ کام تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یعنی نہایت معمولی ہے میرے قبضہ میں ہے۔۳؎یہ الفاظ اس حدیث کے زیادہ مناسب ہیں کہ الله تعالٰی کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں اور شمال کے جو معنی ابھی ہم نے عرض کیے اس معنی سے یہ مضمون اس حدیث کے خلاف نہیں۔۴؎یہ فرمانا اظہار غضب کے لیے ہوگا اس وقت جواب دینے والا کوئی نہ ہوگا۔حضور انور نے آج ہم کو یہ سب کچھ سنا دیا تاکہ ہم لوگوں میں تکبرو غرور پیدا نہ ہو۔خیال رہے کہ ملک بمقابلہ مالک کے عظیم تر ہے مگر بعض لحاظ سے مالک عظیم تر ہے ملک سے۔مالک اور ملک کے بہت نفیس فرق ہماری تفسیر نعیمیمالك یوم الدینکی تفسیر میں ملاحظہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5523