Main Icon

باب:شراب کی سزا کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3623

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا كُنْتُ لأُقِيمَ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عمير بن سعيد النخعي قال: سمعت علي بن أبي طالب يقول: ما كنت لأقيم على أحد حدا فيموت فأجد في نفسي منه شيئا إلا صاحب الخمر فإنه لو مات وديته، وذلك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسنه. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمیر ابن سعید نخعی سے فرماتے ہیں میں نے حضرت علی ابن ابی طالب کو فرماتے سنا کہ میں کسی پر شرعی حد قائم کروں وہ مرجائے تو میں اپنے دل میں کچھ غم و رنج محسوس نہ کروں گا ۱؎سوائے شرابی کے ۲؎کہ اگر وہ مرجائے تو اس کا خون بہادوں گا۳؎یہ اس لیے ہے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سزا مقرر نہ فرمائی ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ماکنت لاقیمکا لام لامِ حجود ہے جوکنتکی نفی نہیں ہونے دیتا بلکہاجد فی نفسیکی نفی کرتا ہے جیسے"مَا کَانَ اللہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمٰنَکُمْ"کا لام یعنی اگر میں کسی کو زنا کے کوڑے لگاؤں یا تہمت کے کوڑے ماروں وہ مرجائے تو مجھے غم نہیں کہ ایسے موذیوں سے زمین خالی ہونا اچھا ہے۔
۲
؎کہ اگر دوران سزا میں یہ مرجائے تو مجھے بہت غم ہوگا۔
۳
؎یعنی اس مضروب کے وارثوں کو سو اونٹ دیت خون بہا ادا کروں گا۔
۴
؎اس پر آئمہ متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص شرعی حد سے مرجائے تو حاکم یا جلاد یا بیت المال پر خون بہا واجب نہیں۔لیکن اگر تعزیر سے مرجائے تو اس میں اختلاف ہے،امام مالک و احمد فرماتے ہیں کہ خون بہا نہیں،امام شافعی کے ہاں بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی،ہمارے ہاں اس کا حکم قتل خطا ہے کہ قاتل کے عصبہ دیت دیں گے اور قاتل کفارہ ادا کرے گا لہذا اگر خاوند اپنی بیوی کو یا استاذ اپنے شاگرد کو یا آقا نوکر کو ادبًا مارے اتفاقًا وہ مرجائے تو اس قاتل کے وارثوں پر دیت اور قاتل پر کفارہ ہے،لیکن اگر خاوند کے صحبت کرنے سے بیوی مرجائے تو نہ دیت ہے نہ کفارہ بلکہ مہر واجب ہے۔حضرت علی کے اس فرمان عالی کا منشاء یہ ہے کہ اگر شرابی کو اسی۸۰ کوڑے مارے گئے اور چالیس کے بعد وہ مرگیا تو میں ضمان دوں گا کیونکہ حضور انور نے چالیس تک مارے ہیں زیادتی تو ہم لوگوں نے کی ہے شاید یہ زیادتی حد نہ ہو بلکہ تعزیر کا حکم رکھتی ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3623