Main Icon

باب:شراب کی سزا کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3617

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَضَرَبَهُ وَلَمْ يَقْتُلْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من شرب الخمر فاجلدوه، فإن عاد في الرابعة فاقتلوه قال: ثم أتي النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك برجل قد شرب في الرابعة فضربه ولم يقتله". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روای فرماتے ہیں کہ جو شراب پی لے تو اسے کوڑے مارو اگر پھر لوٹے تو چوتھی بار میں اسے قتل کردو ۱؎راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کے بعد وہ شخص لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی لی تھی آپ نے اسے مارا تو مگر قتل نہ کیا ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو قتل سے مراد سخت مار ہے یعنی گویا اسے مار ڈالو یا یہ حکم اول اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا۔کسی امام کا یہ مذہب نہیں کہ شرابی کی سزا قتل ہے بلکہ اس حدیث کا اگلا جملہ بھی یہ ہی بتارہا ہے کہ قتل کا حکم یا منسوخ ہے یا متأوّل۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہ قتل تعزیرًا ہو نہ کہ حد کے طور پر کہ اگر قاضی عادی شرابی فسادی کے قتل میں مصلحت دیکھے تو اسے قتل کردے۔
۲
؎اس عمل شریف سے معلوم ہوا کہ حکم قتل یا منسوخ ہے یا وہاں قتل کے معنے سخت مار ہے۔فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان کا قتل سواء تین جرموں کے اور کسی وجہ سے جائز نہیں ہے:ارتداد،قتلِ عمد،زنا بعداحصان،وہ حدیث بھی اس جملہ کی تائید کرتی ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ ایک چھوٹی جماعت نے گزشتہ حدیث کی بنا پرحکم دیا ہے کہ شرابی کو چوتھی بارقتل کیا جائے مگر ان کا یہ قول مخالف اجماع ہے یہ حدیث اس کی ناسخ ہے یا اس کا بیان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3617