Main Icon

باب:شراب کی سزا کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3621

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ: "اضْرِبُوهُ" فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِه، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: "بَكِّتُوهُ" فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ، مَا خَشِيتَ اللَّهَ، وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، قَالَ: "لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ، وَلَكِنْ قُولُوا: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُمَّ ارْحَمْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتي برجل قد شرب فقال: "اضربوه" فمنا الضارب بيده، والضارب بثوبه، والضارب بنعله، ثم قال: "بكتوه" فأقبلوا عليه يقولون: ما اتقيت الله، ما خشيت الله، وما استحييت من رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال بعض القوم: أخزاك الله، قال: "لا تقولوا هكذا، لا تعينوا عليه الشيطان، ولكن قولوا: اللهم اغفر له اللهم ارحمه". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وہ شخص لایا گیا جس نے شراب پی لی تھی ۱؎فرمایا اسے مارو تو ہم میں سے بعض اپنے ہاتھ سے مارنے والے تھے بعض اپنے کپڑے سے اور بعض اپنے جوتے سے ۲؎پھر فرمایا اسے ملامت کرو ۳؎تو لوگ اس پر متوجہ ہوکر کہنے لگے تجھے اسے خوف نہ ہوا تو اسے نہ ڈرا تو نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے شرم نہ کی ۴؎بعض قوم نے کہا تجھے ارسوا کرے ۵؎فرمایا ۶؎یوں نہ کہو نہ اس پر شیطان کی مددکرو ۷؎لیکن یوں کہو خدا اسے بخش دے الٰہی اس پر رحم کر ۸؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎شراب انگوری یعنی خمر پی تھی جیساکہ بعض روایات میں لفظ خمر ہے۔(مرقات)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ نجس جوتے سے نہ مارا ہوگا جس سے اس کا جسم نجس ہوجائے،جوتے سے مارنا اظہار غضب اور اظہار ذلت کے لیے ہے کہ یہ فعل بہت ذلیل ہے۔
۳
؎یعنی اسے زبان سے برا بھلا کہو یہ حکم استحبابی ہے اور پہلا حکماضربوہوجوبی تھا کیونکہ شرابی کو مار کی سزا دینا واجب ہے زبان سے ملامت کرنا مستحب۔سبحان اﷲ!خود برا نہیں کہتے لوگوں کو اس کا حکم دیتے ہیں،خود تو معافی کی دعائیں دیتے ہیں ہم جیسے مجرم بھی ان کے کرم میں ہیں۔
۴
؎معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو ہر گناہ میں اتعالٰی کے خوف کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے شرم بھی چاہیے کہ حضور ہمارے اعمال پر خبردار ہیں ہمارے گناہوں کو حضور دیکھ رہے ہیں رب تعالٰی فرماتاہے: "وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا۔شعر
دن لَہْو میں کھونا تجھے شب نیند بھر سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
اسی طرح ہر نیک عمل میں رب تعالٰی کی رضا اور حضور کی خوشنودی کی نیت کرنی چاہیے رب تعالٰی فرماتاہے:"
وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"حضور کو ہماری نیکیوں سے خوشی ہوتی ہے۔
۵
؎دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جگہ یعنی اس نے بجائے ملامت کے بددعا کی،بجائے نصیحت کے فضیحت کی۔
۶
؎اس رحمت والے نبی نے اس غموں کے دور کرنے والے رسول نے۔(مرقات)جس کا دامن ستاری ہم سب مجرموں کے لیے پھیلا ہوا ہے۔
۷
؎کیونکہ تمہاری اس بد دعا کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ بار بار شراب پیا کرے اور سزا پایا کرے شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تم تو شیطان کی آرزو پوری ہونے کی دعا کررہے ہو۔
۸
؎یعنی یوں کہو کہ الٰہی اس کی گزشتہ شراب نوشی وغیرہ کو معاف فرما اور آئندہ گناہوں سے بچنے نیک اعمال کرنے کے توفیق دے اس پر رحم فرما۔یا ارحم الراحمیناس صحابی کا صدقہ کہ مجھ سیاہ کار بدکردار احمدیار پر بھی رحمت فرما میری گزشتہ بدکاریوں کو بخش آئندہ نیکیوں کی توفیق دے۔آمین!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3621