- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 687
باب : اس میں دوفصلیں ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 687
نماز کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: عَرَّسَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَيْلَةً بِطَرِيْقِ مَكَّةَ، وَوَكَّلَ بِلَالًا أَنْ يُوْقِظَهُمْ لِلصَّلَاةِ، فَرَقَدَ بِلَالٌ وَرَقَدُوْا، حَتّٰى اسْتَيْقَظُوْا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَيْهِمُ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظَ الْقَوْمُ فَقَدْ فَزِعُوْا، فَأَمَرَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يَرْكَبُوْا حَتّٰى يَخْرُجُوْا مِنْ ذٰلِكَ الْوَادِيْ، وَقَالَ: "إِنَّ هٰذَا وَادٍ بِهٖ شَيْطَانٌ". فَرَكِبُوْا حَتّٰى خَرَجُوْا مِنْ ذٰلِكَ الْوَادِيْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يَنْزِلُوْا وَأَنْ يَتَوَضَّؤوْا، وَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ لِلصَّلَاةِ أَوْ يُقِيْمَ، فَصَلّٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِالنَّاسِ،ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ رَأٰى مِنْ فَزَعِهِمْ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا، وَلَوْ شَاءَ لَرَدَّهَا إِلَيْنَا فِيْ حِينٍ غَيْرِ هٰذَا، فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَيْهَا فَلْيُصَلِّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيْهَا فِيْ وَقْتِهَا". ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِلٰى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ فَقَالَ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ أَتٰى بِلَالًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّيْ فَأَضْجَعَهٗ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُهَدِّئُهٗ كَمَا يُهَدَّأُ الصَّبِيُّ حَتّٰى نَامَ"، ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِلَالًا فَأَخْبَرَ بِلَالٌ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِثْلَ الَّذِيْ أَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا.
عن زيد بن أسلم قال: عرس رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليلة بطريق مكة، ووكل بلالا أن يوقظهم للصلاة، فرقد بلال ورقدوا، حتى استيقظوا وقد طلعت عليهم الشمس، فاستيقظ القوم فقد فزعوا، فأمرهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يركبوا حتى يخرجوا من ذلك الوادي، وقال: "إن هذا واد به شيطان". فركبوا حتى خرجوا من ذلك الوادي، ثم أمرهم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن ينزلوا وأن يتوضؤوا، وأمر بلالا أن ينادي للصلاة أو يقيم، فصلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالناس،ثم انصرف وقد رأى من فزعهم فقال: يا أيها الناس إن الله قبض أرواحنا، ولو شاء لردها إلينا في حين غير هذا، فإذا رقد أحدكم عن الصلاة أو نسيها ثم فزع إليها فليصلها كما كان يصليها في وقتها". ثم التفت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى أبي بكر الصديق فقال: "إن الشيطان أتى بلالا وهو قائم يصلي فأضجعه ثم لم يزل يهدئه كما يهدأ الصبي حتى نام"، ثم دعا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بلالا فأخبر بلال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مثل الذي أخبر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أبا بكر، فقال أبو بكر: أشهد أنك رسول الله. رواه مالك مرسلا.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّے کے رستے میں ۲؎نزول فرمایا اورحضرت بلال کو اس لیئے مقرر کیا کہ انہیں نماز کے لیئے جگادیں تب حضرت بلال اورسب حضرات سوگئے ۳؎اورجب جاگے جب کہ ان پرسورج چمک رہا تھاقوم گھبرائی ہوئی جاگی انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوارہوجائیں حتی کہ دور اس جنگل سے نکل جائیں اورفرمایا کہ اس جنگل میں شیطان ہے ۴؎لوگ سوار ہوئے حتی کہ اس جنگل سے نکل گئے پھرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اتریں اور وضوکریں اورحضرت بلال کو حکم دیاکہ نماز کی تکبیریااذان کہیں ۵؎پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی ۶؎پھر فارغ ہوئے ان کی گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا اے لوگو! اللہ نے ہماری روحیں قبض فرمالی تھیں اگرچاہتا اس کے علاوہ اور وقت انہیں واپس کرتا ۷؎جب تم میں سے کوئی نماز سے سوجائے یا اسے بھول جائے پھرگھبرا کر اس کی طرف آئے تو اسے ویسے ہی پڑھے جیسے اس کے وقت میں پڑھتا تھا ۸؎پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیق کی طرف توجہ فرمائی فرمایا کہ شیطان بلال کے پاس آیا جب وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے انہیں لٹادیا ۹؎پھر انہیں تھپکورتا رہا جیسے بچہ تھپکوراجاتاہے حتی کہ وہ سو گئے پھرنبی کریم روف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بلایا تو حضرت بلال نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح خبردی جیسے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرصدیق کو خبردی تھی ۱۰؎ابوبکر صدیق بولے میں گواہی دیتا ہوں آپ سچے رسول ہیں ۱۱؎(صلی اللہ علیہ وسلم)۔(مالک)
شرح حدیث
۱؎آپ حضرت عمرفاروق کے آزادکردہ غلام ہیں،تابعی ہیں،بڑے علم وتقویٰ والے ہیں۔
۲؎مرقاۃ نے فرمایا کہ تعریس کا یہ دوسرا واقعہ ہے کیونکہ پہلا واقعہ خیبر اورمدینہ منورہ کے درمیان پیش آیا تھااوریہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے درمیان ہوا۔شیخ نے فرمایا کہ غالبًا واقعہ تو وہ ہی ہے مگر یہاں راوی کو دھوکا ہوا کہ مکہ معظمہ کے راستے میں سمجھا۔
۳؎اگر یہ خیبر والا واقعہ ہے تو حضرت بلال اونٹ کی پیٹھ سے ٹیک لگائے سوگئے اورصحابہ کبارباقاعدہ لیٹ کر ارادۃً سوئے۔اور اگر دوسرا واقعہ ہے تو حضرت بلال بھی لیٹ کرسوئے،مگرسونے کا ارادہ نہ تھا کمرسیدھی کرنے لیٹے کہ آنکھ لگ گئی ۔
۴؎اس کی شرح وہ ہی ہے جو پہلے ہوچکی،یعنی اس جنگل میں ابھی سورج طلوع ہورہا ہے اورشیطان کےسینگوں کے درمیان ہے،اس وقت نماز مکروہ ہے،کچھ آگے چلو سفربھی طے ہوجائے گااور سورج بھی بلندہوجائے گا۔یہ مطلب نہیں کہ یہاں اس جنگل میں چونکہ شیطان ہے جس نے ہمیں سلادیا لہذا یہاں نماز نہ پڑھو کیونکہ شیطان ہروقت انسان کے ساتھ رہتا ہے،نیزشیطان کی وجہ سے نماز نہ پڑھنا قرین قیاس نہیں۔بت خانوں،شراب خانوں میں نمازاس لیے مکروہ ہے کہ وہ ہرجگہ گناہوں یا شرک وکفرکی ہے۔استنجاخانہ اورحمام میں نمازمکروہ کہ وہ جگہ نجاست کی ہے کہ اس لیے کہ وہاں شیطان ہے۔
۵؎ظاہریہ ہے کہ یہاںاَوبمعنی واؤ ہے یعنی اذا ن اورتکبیرکہیں اور اگرشک کے لئے ہے تو یہ شک راوی کو ہے،یعنی مجھے خیال نہیں کہ میرے شیخ نے اذان کا ذکر کیایاتکبیر کا۔
۶؎معلوم ہوا کہ اگرپوری قوم کی نماز رہ جائے تو قضاءباجماعت کی جائے گی اور اس کے لیے اذان واقامت بھی ہوگی۔
۷؎یعنی اگرچاہتاہوتو ہمیں قیامت ہی کے دن اٹھاتا یہ تو اس کی مہربانی ہے کہ آج ہی جگادیا،نیندموت کی چھوٹی بہن ہے،لہذا اس قضاء پرگھبراؤ مت،اس میں رب تعالٰی کی حکمتیں ہیں۔
۸؎اکثرحنفیوں کا یہ قول ہے کہ جہری نماز کی قضاء بھی جہر سے کی جائے گی اورخفی نمازوں کی قضا بھی آہستہ قرأت سے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ سفرکی نماز اگر گھر میں قضاءکرے تو قصر ہی کرے گا اور اگرگھر کی نمازسفرمیں قضا کرے تو پوری،نیز اگر فجرکی نماز زوال سے پہلے قضاء پڑھے تو سنتیں بھی قضا کرے گا۔
۹؎سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال کی صفائی بیان فرمارہے ہیں کہ انہوں نے ہمارے حکم کی مخالفت نہ کی،جو کچھ ہوا شیطان کی حرکت سے ہوا،بلال بے قصور ہیں۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صبح کے وقت شیطان لوگوں کو ایسےتھپکورتا ہے جیسے ماں بچے کو سلا تے وقت اس وقتلاحولپڑھ کر اٹھ جاناچاہیئے۔دوسرے یہ کہ شیطان کبھی مقبول بندوں پربھی وسوسہ یانیند ڈال دیتا ہے،ہاں انہیں گمراہ نہیں کرسکتا۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"۔ تیسرے یہ کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سوتے میں بھی لوگوں کے ہرحال سے خبردار رہتے ہیں اورشیطان کی حرکتوں کو ملاحظہ فرماتے ہیں۔دیکھو رب تعالٰی نے یہاں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو آفتاب کے طلوع سے بے توجہ کردیا مگرجو واقعہ بلال کو پیش آیا وہ ملاحظہ فرماتے رہے جس محبوب کی نیند میں ایسی خبرداری ہے اس کی بیداری کا کیا حال ہوگا،رب فرماتا ہے:"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"(ان پر تمہاری ہر تکلیف گراں ہے)۔معلوم ہوا کہ وہ امت کارکھوالا اپنے ہرامتی کے ہرحال سے خبردار ہے۔خیال رہے کہ یہاں بلال کی نیند کا سبب شیطان تھا،مگرنیند کا خالق رب اس لئے ابھی کچھ پہلے اسی حدیث میں اس نیند کو رب کی طرف منسوب فرمایا گیا اور یہاں شیطان کی طرف۔فقیرکی اس تقریرسے بہت سی آیات اوراحادیث سے شبہات اٹھ جائیں گے۔
۱۰؎کہ میں نماز پڑھ رہا تھا شیطان نے مجھے تھپکورا میں سوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اکثر صحابۂ کرام شیطان کی حرکات محسوس کرتے تھے بلکہ کبھی شیطان کو حرکتیں کرتے دیکھتے بھی تھے اورپکڑبھی لیتے تھے اور وہ ان کے ہاتھوں چھوٹ نہ سکتا تھا،معافی مانگ کربھاگتا تھاجیسا کہ اسی مشکوٰۃ شریف میں آگے آئے گا۔
۱۱؎یعنی آج میں نے آپ کی رسالت آنکھوں سے دیکھ لی،دیکھ کرگواہی دے رہا ہوں۔معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب آپ کی نبوت اوررسالت کی دلیل ہے۔جوکوئی علم کا انکارکرتا ہے درپردہ نبوت کا انکاری ہے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب
"جاء الحق"حصہ اول میں دیکھو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 687