- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 684
باب : اس میں دوفصلیں ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 684
نماز کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حِيْنَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، سَارَ لَيْلَةً حَتّٰى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرٰى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: "اِكْلَأ لَنَا اللَّيْلَ". فَصَلّٰى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهٗ، وَنَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَأَصْحَابُهٗ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهٖ مُوَجِّهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهٖ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهٖ حَتّٰى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "أَيْ بِلَالُ"، فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِيْ أَخَذَ بِنَفْسِكَ،قَالَ: "اقْتَادُوْا" فَاقْتَادُوْا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلّٰى بِهِمِ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: "مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالٰى قَالَ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِيْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي هريرة قال: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين قفل من غزوة خيبر، سار ليلة حتى إذا أدركه الكرى عرس، وقال لبلال: "اكلأ لنا الليل". فصلى بلال ما قدر له، ونام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه، فلما تقارب الفجر استند بلال إلى راحلته موجه الفجر، فغلبت بلالا عيناه، وهو مستند إلى راحلته، فلم يستيقظ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ولا بلال ولا أحد من أصحابه حتى ضربتهم الشمس، فكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أولهم استيقاظا، ففزع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: "أي بلال"، فقال بلال: أخذ بنفسي الذي أخذ بنفسك،قال: "اقتادوا" فاقتادوا رواحلهم شيئا، ثم توضأ رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وأمر بلالا فأقام الصلاة، فصلى بهم الصبح، فلما قضى الصلاة قال: "من نسي الصلاة فليصلها إذا ذكرها، فإن الله تعالى قال وأقم الصلاة لذكري رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خیبر سے لوٹے ۱؎تو رات بھرچلتے رہے جب آپ کونیند آنے لگی تو آخر رات میں اترے اوربلال سے فرمایا کہ رات میں ہماری حفاظت کرو ۲؎حضرت بلال سے جس قدر ہوسکانماز پڑھتے رہے ۳؎اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سو گئے پھرجب صبح قریب ہوئی تو حضرت بلال نے مشرق کی طرف منہ کرکے اپنی سواری سے ٹیک لگائی سواری سے ٹیک لگائے ان کی آنکھ لگ گئی ۴؎پھر نہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بیدارہوئے اور نہ بلال نہ کوئی صحابی حتی کہ انہیں دھوپ لگی ۵؎ان سب سے پہلے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور فرمایااے بلال ۶؎تب حضرت بلال بولے کہ میرے نفس کو وہ ہی لے گیا جو آپ کے نفس مبارک کو لے گیا ۷؎فرمایا ہانکو صحابہ نے اپنی سواریاں کچھ ہانکیں ۸؎پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوکیا اورحضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے نماز کی تکبیر کہی پھر ان سب کو فجر پڑھائی جب نماز پوری کرچکے تو فرمایا کہ جو نماز بھول جائے تو یاد آنے پر پڑھ لے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میری یاد پر نماز قائم کرو ۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎مدینہ منورہ کی طرف یہ غزوہ محرم ۷ھمیں ہوا،قریبًا ۱۷ دن مسلمانوں نے خیبر کامحاصرہ کیا،اللہ نے شاندارفتح عطا فرمائی۔خیبر مدینہ پاک سے ۳ منزل ہے۔
۲؎اس رات کا نام"لیلۂ تعریس"ہے اور اس واقعہ کا نام"واقعۂ تعریس"ہے۔تعریس کے معنی ہیں آخر رات میں آرام کے لیے اترنا۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کو اپنے خدام سے خدمت لینا جائز ہے،نیز بندوں سے اپنی حفاظت کرانا تو کل کے خلاف نہیں۔
۳؎یعنی جتنے نوافل آج رات ان کے مقدر میں لکھے تھے اورجن پروہ قادرتھے پڑھے۔
۴؎یعنی انکی نیت سونے کی نہ تھی بلکہ بیٹھ کرطلوع فجر دیکھنے کا ارادہ تھا اسی لیے آپ لیٹے نہیں بلکہ بیٹھے رہے اورمنہ بھی مشرق کی طرف رکھا مگر ہونے والی بات کہ بے اختیارسو گئے،لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ نے سرکاری فرمان کی مخالفت کی۔
۵؎یعنی دھوپ کی گرمی سے بیدارہوئے۔خیال رہے کہ حضور کی آنکھ سوتی تھی دل بیدار رہتا تھا مگرسویرا،اندھیرا،اجیالا دیکھنا آنکھ کا کام ہے نہ دل کا،لہذا یہ واقعہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نیند غفلت پیدا نہیں کرتی اسی لیے نیند سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وضونہیں ٹوٹتا۔آج نماز کی قضا غفلت سے نہ ہوئی بلکہ رب نے اپنے پیارے کو اپنی طرف متوجہ کرلیا اور ادھرسے توجہ ہٹا لی تاکہ امت کو قضاءپڑھنے کے احکام معلوم ہوجائیں،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔
۶؎تم نے یہ کیا کیا ہمیں نماز کے وقت جگایا کیوں نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ نمازقضا ہونے پرگھبرا جانا بھی سنت وعبادت ہے جس پربڑاثواب ملتاہے۔
۷؎یعنی جس حکمت والے رب نے آپ کو اس وقت جاگنے نہ دیا اسی نے مجھے سلادیا،اس کلام میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"اَللهُ یَتَوَفَّی الْاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوْتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمْ تَمُتْ فِیۡ مَنَامِہَا"۔سبحان الله !کیا مبارک جواب ہے یعنی ہمارا یہ سوتا رہ جانا شیطانی یانفسانی نہیں ہےبلکہ رحمانی ہے جس میں مصلحت ایمانی و اسلامی ہے۔
۸؎یعنی اس جنگل سے چلو نماز آگے پڑھیں گے کیونکہ ابھی سورج طلوع ہورہا تھا نماز جائز نہ تھی کچھ دور جانے میں قدرے سفربھی طے ہوجائے گا اوروقت کراہت بھی نکل جائے گا،عرب میں ٹھنڈے وقت سفر کرتے ہیں۔خیال رہے کہ آفتاب چمکنے کے بیس منٹ بعدنمازجائز ہوتی ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ سورج نکلتے وقت نہ فرض نماز جائز نہ نفل۔امام شافعی کے ہاں اس وقت فجرکی قضاءجائزہے۔
۹؎یعنی بے اختیاری حالت میں نمازقضاءہوجانے پر گناہ نہیں۔خیال رہے کہ یہاں نماز کی اذان بھی کہی گئی اور تکبیربھی سنتیں بھی پڑھی گئیں اورجماعت سے نمازبھی،لہذا اس حدیث سے بہت سے فقہی مسائل حل ہوئے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 684