Main Icon

باب : اس میں دوفصلیں ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 681

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُوْرِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ، وَلٰكِنِ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الأُفُقِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَلَفْظُهٗ لِلتِّرْمِذِيِّ.

وعن سمرة بن جندب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يمنعنكم من سحوركم أذان بلال، ولا الفجر المستطيل، ولكن الفجر المستطير في الأفق". رواه مسلم، ولفظه للترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہیں سحری سے نہ بلال کی اذان روکے اور نہ لمبی فجرلیکن کنارہ آسمان میں پھیلنے والی فجر ۱؎(مسلم)اس کے لفظ ترمذی کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎صبح دو ہوتی ہیں:صادق اور کاذب۔صبح کاذب مشرق ومغرب میں بھیڑیئے کی دم کی طرح لمبی سفیدی ہے جو ظاہرہوکر غائب ہوجاتی ہے۔اس سے کچھ دیربعدجنوبًا شمالًاسفیدی نمودارہوتی ہے جوبعد میں پھیل جاتی ہے اس کا نام صبح صادق ہے۔اسی وقت سے دن شروع ہوتاہے۔سبحان الله!حضور نے ایک لفظ "مستطیل"فرماکرصدہا مسئلے بیان فرمادیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 681