Main Icon

باب : اس میں دوفصلیں ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 686

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أُقِيمَت الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوْهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوْهَا تَمْشُوْنَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: "فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ هُوَ فِيْ صَلَاةٍ".وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِيْ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا أقيمت الصلاة فلا تأتوها تسعون، وأتوها تمشون، وعليكم السكينة، فما أدركتم فصلوا، وما فاتكم فأتموا". متفق عليه. وفي رواية لمسلم: "فإن أحدكم إذا كان يعمد إلى الصلاة هو في صلاة".وهذا الباب خال عن الفصل الثاني

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب نمازکی تکبیرکہی جائے تو دوڑتے نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے اطمینان کے ساتھ آؤ ۱؎جوپالو وہ پڑھ لوجورہ جائے پوری کرلو ۲؎(مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کیونکہ جب کوئی نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نمازہی میں ہوتا ہے ۳؎یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جماعت کے لئے گھبرا کردوڑتے نہ آؤ کہ اس میں گرجانے چوٹ کھانے کا اندیشہ ہے۔خیال رہے کہ رب نے جو فرمایا"فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللهِ"وہاںسعیسے مراد دوڑنا نہیں بلکہ نماز جمعہ کی تیاری کرناہے،لہذا آیت وحدیث میں مخالفت نہیں۔
۲
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت میں شامل ہونے کے لئے سکون سے آنا مستحب ہے،دوڑنا مستحب کے خلاف ہے حرام نہیں،لہذا فاروق اعظم کا ایک دفعہ دوڑ کر رکوع میں شامل ہونا ناجائز نہ تھا۔دوسرے یہ کہ آخری جزو مل جانے سے جماعت مل جاتی ہے،لہذا جونمازجمعہ کیاَلتَّحِیَّاتُمیں مل جائے وہ جمعہ پڑھے۔تیسرے یہ کہ جس رکعت میں مقتدی ملے وہ تعداد کے لحاظ سے رکعت اول ہے اور قرأت کے لحاظ سے رکعت آخری۔
۳
؎یعنی جب سے وہ نماز کے ارادے سے گھر سے چلا اسے نماز کا ثواب مل رہا ہے پھرجلدی کیوں کرتا ہے،کیوں گرتا اورچوٹ کھاتا ہے،اطمینان سے آئے جو پائے اس کو ادا کرے۔خیال رہے کہ اگرتکبیراولٰی یارکوع پانے کے لئے قدرے تیزی سے آئے مگر نہ اتنی کہ چوٹ لگنے گرنے کا اندیشہ ہوتومضائقہ نہیں جیساکہ فارو ق اعظم کا عمل پہلے بیان ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 686