- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 139
باب: عذاب قبر کا ثبوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 139
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيْرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ فِي قَبْرِهٖ غَيْرَ فَزَعٍ وَلَا مَشْغُوْبٍ، ثُمَّ يُقَالُ: فِيْمَ كُنْتَ؟ فَيَقُوْلُ: كُنْتُ فِي الْإِسْلَامِ، فَيُقَالُ: مَا هٰذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُوْلُ: مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ فَصَدَّقْنَاهُ، فَيُقَالُ لَهٗ: هَلْ رَأَيْتَ اللّٰهَ؟ فَيَقُوْلُ: مَا يَنْبَغِيْ لأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَاللهَ، فَيُفَرَّجُ لَهٗ فُرْجَةً قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ إِلٰى مَا وَقَاكَ اللّٰهُ ثُمَّ يُفَرَّجُ لَہٗ فُرْجَةً قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلٰى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَال لَهٗ: هٰذَا مَقْعَدُكَ، عَلَى الْيَقِيْنِ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ فِيْ قَبْرِهٖ فَزِعًا مَشْغُوْبًا، فَيُقَالُ لَهٗ: فِيْمَ كُنْتَ؟ فَيَقُوْلُ: لَا أَدْرِيْ، فَيُقَالُ لَهٗ: مَا هٰذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ قَوْلًا فَقُلْتُهٗ، فَيُفَرَّجُ لَهٗ فُرْجَةً قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلٰى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيْهَا، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ إِلٰى مَا صَرَفَ اللّٰهُ عَنْكَ، ثُمَّ يُفَرَّجُ لَهٗ فُرْجَةً إِلَى النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهٗ: هٰذَا مَقْعَدُكَ، عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الميت يصير إلى القبر، فيجلس الرجل في قبره غير فزع ولا مشغوب، ثم يقال: فيم كنت؟ فيقول: كنت في الإسلام، فيقال: ما هذا الرجل؟ فيقول: محمد رسول الله، جاءنا بالبينات من عند الله فصدقناه، فيقال له: هل رأيت الله؟ فيقول: ما ينبغي لأحد أن يرى اللهالله، فيفرج له فرجة قبل النار، فينظر إليها يحطم بعضها بعضا، فيقال له: انظر إلى ما وقاك الله ثم يفرج لہ فرجة قبل الجنة، فينظر إلى زهرتها وما فيها، فيقال له: هذا مقعدك، على اليقين كنت، وعليه مت، وعليه تبعث إن شاء الله ، ويجلس الرجل السوء في قبره فزعا مشغوبا، فيقال له: فيم كنت؟ فيقول: لا أدري، فيقال له: ما هذا الرجل؟ فيقول: سمعت الناس يقولون قولا فقلته، فيفرج له فرجة قبل الجنة، فينظر إلى زهرتها وما فيها، فيقال له: انظر إلى ما صرف الله عنك، ثم يفرج له فرجة إلى النار، فينظر إليها يحطم بعضها بعضا، فيقال له: هذا مقعدك، على الشك كنت، وعليه مت، وعليه تبعث إن شاء الله تعالى". رواه ابن ماجه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردہ قبر میں پہنچتا ہے پھر اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے نہ گھبرایا ہوا نہ پریشان ۱؎پھر اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا ؟وہ کہتا ہے اسلام میں تھا۲؎پھر کہا جاتا ہے یہ کون صاحب ہیں؟وہ کہتاہے محمدرسول اللہ ہیں جو ہمارے پاس رب کی طرف سے نشانیاں لائے ہم نے ان کی تصدیق کی۳؎تب کہا جاتا ہے کیا تو نے اللہ کو دیکھا ہے ؟۴؎وہ کہتا ہے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۵؎پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ ادھر دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہی ہے ۶؎پھر اس سے کہاجاتا ہے کہ ادھر دیکھ جس سے تجھے اللہ نے بچالیا ۷؎پھر جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی ترو تازگی کی طرف اور جو اس میں ہے دیکھتا ہے ۸؎پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تو یقین پر تھا اسی پر مرا اوران شاءاللهاسی پر اٹھے گا ۹؎برا آدمی اپنی قبر میں بٹھالا جاتا ہے حیران پریشان ۱۰؎اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا؟وہ کہتا ہے مجھے نہیں خبر پھرکہا جاتا ہے یہ صاحب کون ہیں؟وہ کہتا ہے میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا وہ میں نے بھی کہا تھا ۱۱؎تب اس کے سامنے جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ وہاں کی ترو تازگی اور جو کچھ اس میں ہے دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے وہ دیکھ جو اللہ نے تجھ سے پھیر دیا پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہا ہے پھر کہا جاتا ہے یہ ہے تیرا ٹھکانہ ۱۲؎تو شک پر تھا اس پر مرا اسی پران شاء اللهاٹھے گا ۱۳؎(ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎یہ مؤمن کا حال ہوگا اسی اطمینان کی وجہ سے سوالات کا جواب آسانی سے دے گا وہ دنیا میں کافی گھبرا اور ڈرچکا اب اس کے اطمینان کا زمانہ آگیا۔
۲؎یعنی زندگی میں بھی اسلام پر تھا اور اب بھی لیکن چونکہ سزاوجزا کا دارومدار زندگی کے ایمان و اعمال پر ہے اس لیئے یہاں اسی کا ذکر کیا گیا،بعض صالحین قبر میں تلاوت قرآن،بلکہ نمازبھی اداکرتے ہیں مگر انہیں اس کا کوئی ثواب نہیں،لذت روحانی ہے،اسی لیئے بزرگوں کی ارواح کو بھی نیکیوں کا ثواب بخشاجاتاہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہکُنْتُکیوں فرمایا۔
۳؎خیال رہے کہ اگرچہ اسلام میں توحید،رسالت اور سارے عقائد آگئے تھے لیکن پھر بھی آخری سوال حضور کے بارے میں ہوتا ہے۔کلمہ ختم ہو تو ان کے نام پر،نمازختم ہو تو ان کے سلام پر،امتحان قبر ختم ہو تو ان کی پہچان پر،خاتمیت کا سہرا انہی کے سر ہے،ہر جگہ نجات انہی کے سہارے ہے۔
۴؎یعنی تو جو کہتا ہے وہ اللہ کے پاس سے نشانیاں لائے کیا تونے خدا کو انہیں نبی بناکر بھیجتے،نشانیاں دیتے دیکھا تھا ؟ وہ کہتا ہے کہ خود تو نہیں دیکھا،دیکھنے والے محبوب سے سنا تھا،مجھے ان کے کلام پر اپنی آنکھوں سے زیادہ اعتماد ہے،میری آنکھیں جھوٹی ہوسکتی ہیں ان کا کلام غلط نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ یہ گفتگو امتحان کے علاوہ ہے۔فرشتے خوش ہو کر اس سے یہ باتیں کرتے ہیں۔
۵؎دنیا میں ان آنکھوں سے۔سبحان الله!جاہل مسلمان بھی مرتے ہی عقائد کا عالم بن جاتا ہے۔
۶؎خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت دوزخ کی آگ نظر آتی ہے تکلیف بالکل نہیں پہنچاتی،کچلنے کا یہ مطلب ہے کہ اس قدر زیادہ آگ ہے گویا آگوں کی بھیڑہوگئی ہے کہ بعض بعض کو کچلے دیتی ہے۔
۷؎اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ دوزخ سے بچنا محض اپنے عمل سے نہیں بلکہ رب تعالٰی کے فضل سے ہے کہ اسی کے کرم سے قبر میں کامیابی ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ ہر شخص کی جگہ جنت میں بھی ہے اور دوزخ میں بھی،مؤمن جنت میں اپنی جگہ بھی سنبھالتاہے اور کافر کی بھی،مؤمن کو دوزخ کی جگہ پہلے دکھانا اسے زیادہ خوش کرنے کے لیئے ہے۔
۸؎صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور دوزخ کی کھڑکی فورًا بندکردی جاتی ہے مگر یہ کھڑکی تا قیامت کھلی رہتی ہے۔
۹؎یعنی دنیا میں تجھے اپنے عقائد کا علم الیقین تھا جو سن کر حاصل ہوا،قبر میں ان سب چیزوں کو دیکھ کر عین الیقین حاصل ہوا۔اور بعد حشر وہاں پہنچ کر حق الیقین نصیب ہوگا،یقین دائمی رہا اس کے مرتبوں میں ترقی ہوتی رہی یاد رکھو کہ جیسے جیو گے ویسے ہی مرو گےان شآءاللهفرمانا برکت کے لیے ہے نہ کہ شک کے لیئے رب تعالٰی نے فرمایا:"لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ الله"۔
۱۰؎کیونکہ کافر دنیا میں خدا سے بے خو ف رہا اب اس کا خو ف شروع ہوگیا۔
۱۱؎منافق نے فقط زبان سے لوگوں کی دیکھا دیکھی رسول اللہ کہہ دیا تھا،کافر اپنے دوستوں سے سن کر انہیں جادو گر وغیرہ کہتے تھے،غرض تسلی بخش جواب نہ دے سکے گا۔
۱۲؎یہاں بھی گزشتہ تقریر یاد رہے کہ کافر جنت کو صرف دیکھتا ہے اس سے فائدہ بالکل نہیں اٹھاتا اور جنت کی کھڑکی فورًا بند بھی کردی جاتی ہے یہ دکھانا زیادتی حسرت کے لیئے ہے دوزخ کو دیکھتا بھی ہے اور اس کی گرمی سے تکلیف بھی پاتا ہے اور یہ کھڑکی کبھی بند بھی نہیں ہوتی۔
۳؎عام کافروں کو اپنے دین پر جزم نہیں ہوتا،ذرا سی مصیبت میں دین چھوڑ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ"ہم نے ہندؤوں کو مسجدوں کے دروازہ پر نمازیوں کے جوتوں کی خاک چومتے دیکھا ہے،مشائخ کرام کے تلوؤں کو چومتے دیکھا ہے،اور جن خاص کافروں کو اپنے مذہب پر جزم اوراعتماد ہے وہ بھی یقین نہیں کہلاتا بلکہ جہل مرکب یعنی جھوٹی بات کو سچا جان لینا،نیز اس کا یہ اعتماد مرتے ہی ختم ہوجاتا ہے،اب اسے مرنے کے بعد سمجھ میں نہیں آتا کہ دین برحق کیا ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت سے کافرو ں کو اپنے مذہب پر یقین ہوتا ہے پھرحدیث کیونکہ صحیح ہوئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 139