- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 129
باب: عذاب قبر کا ثبوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 129
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلٰى بَغْلَةٍ لَهٗ، وَنَحْنُ مَعَهٗ إِذْ حَادَتْ بِهٖ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ، وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَو خَمْسَةٌ، فَقَالَ: "مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هٰذِهِ الأقْبُرِ؟ "، قَالَ رَجُلٌ: أَنا، قَالَ"فَمَتٰى مَاتُوا؟ " قَالَ: فِي الشِّرْكِ، فَقَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ تُبْتَلٰى فِيْ قُبُوْرِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِيْ أَسْمَعُ مِنْهُ"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ، فَقَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، قَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن زيد بن ثابت قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في حائط لبني النجار على بغلة له، ونحن معه إذ حادت به فكادت تلقيه، وإذا أقبر ستة أو خمسة، فقال: "من يعرف أصحاب هذه الأقبر؟ "، قال رجل: أنا، قال"فمتى ماتوا؟ " قال: في الشرك، فقال: "إن هذه الأمة تبتلى في قبورها، فلولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم من عذاب القبر الذي أسمع منه"، ثم أقبل علينا بوجهه، فقال: "تعوذوا بالله من عذاب النار"، قالوا: نعوذ بالله من عذاب النار، قال: "تعوذوا بالله من عذاب القبر"، قالوا: نعوذ بالله من عذاب القبر، قال: "تعوذوا بالله من الفتن ما ظهر منها وما بطن"، قالوا: نعوذ بالله من الفتن ما ظهر منها وما بطن، قال: "تعوذوا بالله من فتنة الدجال"، قالوا: نعوذ بالله من فتنة الدجال. رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت زیدابن ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پرسوار تھے۲؎اور ہم حضور کے ساتھ تھے کہ اچانک آپ کا خچر بدکا ۳؎قریب تھا کہ آپ کو گرادیتا ناگاہ وہاں پانچ چھ قبریں تھیں حضور نے فرمایا کہ ان قبروں کو کوئی پہچانتا ہے ؟۴؎ایک شخص نے عرض کیا کہ میں حضور نے فرمایا یہ کب مرے عرض کیا زمانہ شرک میں ۵؎تب حضور نے فرمایا کہ یہ گروہ ۶؎اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں ۷؎اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑو گے تو میں الله سے دعاکرتا کہ اس عذاب سے کچھ تمہیں بھی سنا دے جو میں سن رہا ہوں۸؎پھر ہماری طرف چہرہ کرکے فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے الله کی پناہ مانگو سب نے کہا ہم دوزخ کے عذاب سے الله کی پناہ مانگتے ہیں فرمایا عذاب قبر سےالله کی پناہ مانگو سب بولے ہم عذاب قبرسے الله کی پناہ مانگتے ہیں ۹؎فرمایا کھلے چھپے فتنوں سےالله کی پناہ مانگو سب بولے ہم کھلے چھپےفتنوں سےالله کی پناہ مانگتے ہیں ۱۰؎فرمایا دجال کے فتنہ سےالله کی پناہ مانگو سب بولے کہ ہم دجال کے فتنہ سے الله کی پناہ مانگتے ہیں ۱۱؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ انصاری ہیں،مدنی ہیں،کاتب وحی،علم فرائض کے امام ہیں،آپ کے حالات پہلے ذکر کیئے جاچکے۔
۲؎بنی نجار انصار کا ایک بڑا قبیلہ ہے،انہی کی چھوٹی بچیاں ہجرت کے دن حضور کی تشریف آوری پردف بجاتی اور گاگا کر خوشیاں مناتی تھیں۔
۳؎عذاب قبر دیکھ کر معلوم ہوا کہ جس خچر پر حضور سوار ہوجائیں اس کی آنکھ سے غیبی حجاب اٹھ جاتے ہیں کہ وہ قبر کے اندر کا عذاب دیکھ لیتا ہے،تو جس ولی پر حضور کا دستِ کرم پڑ جائے وہ عرش وفرش دیکھ لیتا ہے،خیال رہے کہ جانور قبر والونکی چیخ وپکار سن لیتے ہیں جیساکہ پچھلی حدیث میں گزرچکا،مگر عذابِ قبر کا دیکھنا حضور کی برکت سے تھا ورنہ ہمارے گھوڑے دن رات قبروں پر گزرتے ہیں نہ بدکتے ہیں نہ اچھلتے ہیں۔
۴؎یہ سوال اپنی بے علمی کی بنا پر نہیں کہ بلکہ دوسرے کی زبان سے یہ حالات سنوانے کےلیئے ہیں،حضور اپنے صحابہ اور انکی قبروں کو پہچانتے ہیں،ہر ایک کے دفن میں شرکت فرماتے تھے،رب تعالٰی نے موسٰی علیہ السلام سے پوچھا تھاکہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ حالانکہ رب تعالٰی علیم وخبیر ہے حضور تو قبر کا عذاب ملاحظہ فرمارہے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ان سے بے خبر ہوں
۵؎آپ کی تشریف آوری سے پہلے یا بعد آپ کا انکار کر کے،اس سے معلوم ہوا کہ ظہورِاسلام سے پہلے جو مشرک ہوکر مرا اسے بھی عذابِ قبر ہوگا اور کفار کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوتا نہ اس کے لیئے دعائے مغفرت کی جائے،نہ ایصال ثواب وغیرہ،مردے کو کوئی دوامفید نہیں،کافر کو کوئی دعا فائدہ مند نہیں۔ اسی لیئے حضور نے ان کےلیئے دعا بھی نہ فرمائی اور سبزہ وغیرہ بھی نہ ڈالا جیساکہ گنہگاروں کی قبرپر کھجور کی شاخ گاڑی تھی جس کا ذکر آگے آوے گا۔ بعض مسلمان مشرکوں کو خوش کرنے کے لیئے گاندھی کی سمادھ پر پھول ڈالتے ہیں،سخت ناجائز ہے
۶؎مشرکین وکفار کا امت یعنی جماعت جو دین یا زمانہ یا جگہ میں جمع ہو(مرقاۃ)
۷؎پہلے گزرچکا کہ قبر سے مراد عالم برزخ ہے مشرکین ہند کے مردے جلادیئے جاتے ہیں انہیں بھی عذاب برزخ ہوتا ہے۔
۸؎ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب سارے مسلمانوں سے ہے نہ کہ صرف صحابہ سے بعض صحابہ اور اولیاءﷲتو عذاب قبر کو سنتے اور دیکھتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ عذاب قبرایسی دہشتناک چیزہے کہ اگر عوام اسے دیکھ لیں تو دہشت سے دیوانے ہوجائیں،اور اپنے مردوں کو دفن کرنا بھول جائیں،یہ مطلب نہیں کہ دفن نہ کرنے سے عذاب نہیں ہوتا،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،کوئٹہ کا زلزلہ دیکھ کر لوگوں کے ہوش اڑ گئے تھے اور بہت سے دیوانے ہوگئے تھے۔
۹؎اگرچہ عذاب قبر پہلے ہے اور عذابِ دوزخ بعد میں،لیکن چونکہ عذابِ دوزخ سخت ہے اور عذاب قبر ہلکا کہ دوزخ میں آگ ہے اور قبر میں آگ کا اثر اس لیئے دوزخ کا ذکر پہلے فرمایا اور قبر کا بعد میں۔
۱۰؎کھلے فتنے بداعمالیاں ہیں یعنی جسم کے گناہ اور چھپےفتنے بدعقیدگیاں،حسد،کینہ وغیرہ ہیں یعنی دل کے گناہ۔مطلب یہ ہے کہ ان تمام برائیوں سے پناہ مانگو جو عذابِ دوزخ یا عذابِ قبر کا سبب ہیں چونکہ بظاہر یہ تکلیف دہ نہیں ہوتے اس لیئے ان کا ذکر بعد میں کیا گیا۔
۱۱؎یہ دعا آیندہ نسلوں کی تعلیم کے لیئے اور صحابہ کرام کے دلوں میں فتنۂ دجال کی ہیبت قائم کرنے کے لیئے ہے،ورنہ حضور کو علم تھا کہ صحابہ کے زمانہ میں نہ دجال آئے گا نہ اس کے فتنے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 129