- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 126
باب: عذاب قبر کا ثبوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 126
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضعَ فِي قَبْرِهٖ وَتَوَلّٰى عَنْهُ أَصْحَابُهٗ إِنَّهٗ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ،أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهٖ، فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هٰذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ: أَشْهَدُ أَنَّهٗ عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهٗ، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ إِلٰى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللّٰهُ بِهٖ مَقْعَدًا مِنَ الْجنَّة، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ، فَيُقَالُ لَهٗ: مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هٰذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ: لَا أَدْرِيْ، كُنْتُ أَقُوْلُ: مَا يَقُوْلُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ لَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهٗ لِلْبُخَارِيِّ
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه إنه ليسمع قرع نعالهم،أتاه ملكان فيقعدانه، فيقولان: ما كنت تقول في هذا الرجل لمحمد؟ فأما المؤمن فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله، فيقال له: انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك الله به مقعدا من الجنة، فيراهما جميعا، وأما المنافق والكافر، فيقال له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: لا أدري، كنت أقول: ما يقول الناس، فيقال: لا دريت لا تليت ويضرب بمطارق من حديد ضربة، فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين" متفق عليه، ولفظه للبخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے ۱؎اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں ۲؎پھر کہتے ہیں کہ تو ان صاحب کے متعلق کیا کہتا تھا یعنی محمد ۳؎تو مؤمن کہہ دیتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۴؎تب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنا دوزخ کا ٹھکانا دیکھ جسے اللہ نے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ۵؎تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے ۶؎لیکن منافق اور کافر اس سے کہا جاتا ہے کہ ان صاحب کے بارے میں كيا کہتا تھا ؟ ۷؎وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا جو لوگ کہتے تھے وہی میں کہتا تھا ۸؎تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے نہ پہچانا قرآن نہ پڑھا ۹؎اور لوہے کے ہتھوڑوں سے مار ماری جاتی ہے جس سے وہ ایسی چیخیں مارتا ہے کہ سواء جن و انس تمام قریبی چیزیں سنتی ہیں ۱۰؎(مسلم وبخاری)الفاظ بخاری کے ہیں۔
شرح حدیث
۱∞؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مردے سنتے ہیں،مردوں کا سُننا قرآنی آیات اور بے شمار احادیث سے ثابت ہے۔حضرت شعیب وصالح علیہما السلام نے عذاب یافتہ قوم کی نعشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا:"یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ"الآیہ۔رب فرماتا ہے:"وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ"یعنی اے محبوب! پچھلے پیغمبروں سے پوچھو،بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا گیا:"ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا"ذبح کیے ہوئے جانوروں کو پکارو دوڑتے ہوئے آجائیں گے،یہ حدیث سماع موتٰی کے لیے نصِّ صریح ہے،ہمارے حضور علیہ السلام نے بدر میں مقتول کفار کی لاشوں پر کھڑے ہو کر ان سے کلام کیا۔خیال رہے کہ مردے کا یہ سننا ہمیشہ رہتا ہے،اس لئے حکم ہے کہ قبرستان میں جاکر مردوں کو سلام کرو،حالانکہ نہ سننے والوں کو سلام کیسا ؟ جن آیتوں میں سماع موتٰی کی نفی ہے وہاں مردوں سے مراد دل کے مردے یعنی کافر ہیں،اور سننے سے مراد قبول کرنا ہے اسی لیئے جہاں قرآن نے یہ فرمایا:"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"تم مردوں کو سُنا نہیں سکتے،وہاں ساتھ میں یہ بھی فرمادیا:"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا"یعنی تم صرف مؤمنوں کو ہی سُناسکتے ہوجس سے معلوم ہوا کہ وہاں مردوں سے مراد کافر تھے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ میت اپنے دینے والوں،نماز پڑھنے والوں،اٹھانے والوں اور دفن کرنے والوں کو جانتا پہچانتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ گنبدِ خضریٰ میں حضرت عمر کے دفن ہونے کے بعد پردے کے ساتھ اندر جاتی تھیں،اور فرماتی تھیں کہ میں عمر سے حیا کرتی ہوں،معلوم ہوا کہ میت دیکھتی بھی ہے،امام صاحب نے میت کے سننے میں توقف نہیں کیا بلکہ سننے کی نوعیت میں جیسا کہ اسی جگہ مرقاۃ میں ہے۔دوسرے یہ کہ بعد موت قوتیں بڑھ جاتی ہیں کہ ہزار ہا من مٹی میں دفن ہونے کے باوجود میت لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سن لیتی ہے تو جو انبیاء اور اولیاء زندگی میں مشرق و مغرب دیکھتے ہوں وہ بعد وفات فرش و عرش کی یقینًا خبر رکھتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ ہر جمعرات کو میت کی روح اپنے عزیزوں کے گھر پہنچ کر اُن سے ایصال ثواب کی درخواست کرتی ہے(اشعۃ اللمعاتباب زیارۃ القبور) معراج کی رات سارے نبی بیت المقدس میں اور پھر آنًا فانًا آسمانوں پر موجود تھے یہ ہے رُوحِ میت کی رفتار۔
۲؎اس عبارت سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حسابِ قبر سب لوگوں کے لوٹ آنے کے بعد شروع ہوتا ہے لہذا اگر کوئی شخص قبر پر ہی رہے تو الله کی رحمت سے امید ہے کہ میت سے حساب نہ ہوگا اسی لیے بعض لوگ بعد دفن سے جمعہ کی شب تک قبر پر حافظ قرآن بٹھالیتے ہیں کہ شاید ان کی موجودگی کی وجہ سے حساب اور تلاوتِ قرآن کی برکت سے عذاب نہ ہو۔دوسرے یہ کہ منکر نکیر فرشتوں میں یہ طاقت ہے کہ بیک وقت ہزاروں جگہ جاسکتے ہیں،ہزار ہا قبر وں میں ایک آن میں موجود ہو کر سب مردوں سے حساب کرلیتے ہیں اسی کو حاضر ناظر کہا جاتا ہے،لہذا اگر انبیاء اولیاء بیک وقت چند جگہ موجود ہوں تو کوئی قباحت نہیں اور نہ یہ عقیدہ شرک ہے۔خیال رہے کہ منکرنکیرمردے میں روح ڈالتے ہیں جس سے وہ زندہ ہو کر بیٹھتا ہے اور کلام کرتا ہے مگر یہ زندگی ہمیں محسوس نہیں ہوسکتی اور جنہیں جلا دیا گیا یا شیر کھا گیا ان کے اجزاءاصلیہ سے روح متعلق کردی جاتی ہے اور اس سے حساب ہوجاتا ہے۔حدیث میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں ماں کے پیٹ میں فرشتہ بچہ بنا جاتا ہے،تقدیر لکھ جاتا ہے ماں کو خبر نہیں ہوتی عالمِ امر کی چیزیں اِن آنکھوں سے نہیں دیکھی جاسکتیں۔
۳؎یہ"ھٰذَا الرَّجُل"کی تفسیرہے جو حضور نے خود فرمائی کسی راوی کی تفسیر نہیں ورنہ وہ رسول الله یا نبی الله فرماتے۔(مرقاۃ)اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حسابِ قبر حضور سے نہیں لیا گیا کیونکہ حضور ہی کی پہچان کا تو حساب ہے پھر آپ سے کیسے ہوتا۔دوسرے یہ کہ قبر میں ہر مردے کو قریب سے حضور کی زیارت کرائی جاتی ہے۔جیسا کہھذاسے معلوم ہوا،ھذاوہاں بولتے ہیں جہاں چیز نظر بھی آرہی ہو اور قریب بھی ہو۔تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیک وقت سب کی قبو ر میں پہنچ سکتے ہیں،یاسب كو بیک وقت نظر آسکتے ہیں جیسے سورج کی شعاعیں بیک وقت لاکھوں جگہ موجوداور بیک وقت خود ہر جگہ سے نظر آتا ہے اس سے حاضر ناظر کا مسئلہ حل ہوا۔چوتھے یہ کہ فرشتے خود حضور ہی کی زیارت کراتے ہیں نہ کہ آپ کے فوٹو کی کیونکہ فوٹو نہرَجُلہے،نہ اس فوٹو کا ناممحمدہے،نہ وہ فوٹونبی ہے جیسے پتھر کو خدا کہنا شرک ہے ایسے ہی کسی فوٹو کو نبی بتانا بھی کفر ہے،عشاق اس دیدار قبر کی بنا پر موت کی تمنا کرتے ہیں اور عاشقوں کی موت کو عرس کہا جاتا ہے یعنی برات کا دن یا دولہا کی دید کی عید کا دن۔
۴؎یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا اس نے حضور کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو نورِ ایمانی سے پہچان لیتا ہے اور تڑپ کر پکارتا ہے کہ یہی وہ ہیں جن کا میں نے کلمہ پڑھا تھا۔بعض عشاق کہہ بیٹھتے ہیں کہ میں نے عمر بھر ان کو رسول الله مانا،اب اُن سے پوچھو مجھے اپنا اُمتی کہتے ہیں یانہیں جیسا کہ بعض صوفیاء کے کشف سے ثابت ہے۔
۵؎الله نے ہر بندے کے دو ٹھکانے رکھے ہیں،ایک جنت میں ایک دوزخ میں کافر اپنے ٹھکانے پربھی قبضہ کرتا ہے اور مؤمن کے دوزخی ٹھکانے پر بھی اور مؤمن جنت میں اپنا اور کافر کاجنتی ٹھکانہ سنبھالتا ہے رب فرماتا ہے:"وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ"اور فرماتا ہے:"اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ"۔ یہاں زمین سے جنت کی زمین مراد ہے اور وراثت سے کافر کے حصہ کی ملکیت مراد ہے وہی اس حدیث کا مقصد ہے یعنی اگر تو جناب مصطفے کو یہاں نہ پہچانتا تو دوزخ میں یہاں رہتا،یہ اس لئے کہا جاتا ہے تاکہ مؤمن کی خوشی دوبالا ہوجائے۔
۶؎یعنی میت اپنے قبر میں سے دوزخ و جنت کو آنکھوں سے دیکھتا ہے حالانکہ یہ دونوں اس کی قبر سے کروڑوں میل دور ہیں جب مردے کی دور بینی کا یہ عالم ہے تو اگر وہ ساری زمین اور زمین والوں کو دیکھے تو کیا بعید ہے،آج حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہراُمّتی کے ہرحال کو دیکھ رہےہیں۔اور ان کی ہر بات سُن رہے ہیں اسی لئے ہر نمازی ہر جگہ سے انہیں نماز میں سلام کرتا ہے کہتا ہے"السَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّہَا النَّبِیُ"۔۷؎اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ قبر میں یہ اشارہ حسّیہ ہوتا ہے نہ کہ عقلیہ اور وہمیہ یعنی فرشتے جمالِ محمدی دکھا کر پوچھتے ہیں محض ذہنی،وہمی چیز کی طرف اشارہ نہیں کرتے کیونکہ کافر حضور سے خالی الذہن ہے اگر اس کے سامنے جمال محمد ی نہ ہوتا تو وہ تعجب سے کہتا کسے پوچھتے ہو؟ یہاں تو کوئی بھی نہیں یہ حدیث حضور کے حاضرناظر ہونے کی ایسی قوی دلیل ہے کہ منکرین سےان شاء اللهاس کا جواب نہ بنے گا،سورج بیک وقت لاکھوں آئینوں میں جلوہ گری کرسکتا ہے تو نبوت کا سورج بھی لاکھوں قبروں کو بیک وقت چمکا سکتا ہے۔
۸؎اگرچہ کافر نے عمر بھر حضور کو دیکھا ہو مگر قبر میں نہ پہچان سکے گا جیسے ابوجہل،ابولہب وغیرہ کیونکہ وہاں حضور کی پہچان رشتہ ٔ ایمانی سے ہے،لطف تو یہ ہے کہ کافر وہاں اپنا کفر بھی بھول جائے گا،یہ نہ کہہ سکے گا کہ میں انہیں اپنے جیسا بشر یا بڑا بھائی یا جادو گر و مجنوں کہتا تھا،بلکہ گھبرا کر کہے گا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے انہیں کیا کہا تھا جو اور لوگ کہتے تھے وہی میں نے بھی کہا ہوگا۔
۹؎"تَلَیْتَ"اصل میںتَلَوْتَتھادَرَیْتَکی و جہ سے اس کی "وَ"بھی "یَ"سے بدل گئی یعنی ان کی نبوت پر تو عقلی دلائل بھی قائم تھے،ان کے معجزات وغیرہ اور نقلی دلائل بھی آیاتِ قرآنیہ۔تو نے زندگی میں نہ تو انہیں عقل سے پہچانا،نہ قرآن کے ذریعہ مانا،نہ علماء کی پیروی کی۔ظاہر یہ ہے کہ گفتگو سارے ہی کافروں اور منافقوں سے ہے،اس میں کسی تاویل وغیرہ کی ضرورت نہیں۔
۱۰؎یعنی چونکہ جن و انس ایمان اور شرعی احکام کے مکلف ہیں اور ایمان بالغیب چاہیئے اس لیئے قبر کا عذاب اور کافر مردے کی چیخ و پکار ان دونوں سے مخفی رکھی گئی تاکہ یہ غیب شہادت نہ بن جائے۔ان کے علاوہ باقی تمام قریبی حیوانات بلکہ درخت و پتھر وغیرہ بھی یہ آواز سنتے ہیں۔خیال رہے کہ ہر قبر میں سوال و جواب کرنے والے دو فرشتے جاتے ہیں تاکہ یہ گواہ بھی بن جائیں مگر ہتھوڑوں سے مارنے والے دوسرے فرشتے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 126