- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 131
باب: عذاب قبر کا ثبوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 131
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهٖ فَيَقُولَانِ لَهٗ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللّٰهُ ، فَيَقُولَانِ لَهٗ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُوْلُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِيْ بُعِثَ فِيْكُمْ؟ فَيَقُوْلُ: هُوَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللّٰهِ فَآمَنْتُ بِهٖ وَصَدَّقْتُ؛ فَذٰلِكَ قَولُهٗ: {يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} الآيَةَ قَالَ: فَيُنَادِيْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ صَدَق عَبدِي فَأفْرِشُوْهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوْهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوْا لَهٗ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ فيُفْتَحُ، قَالَ: فَيَأتِيْهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيْبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهٗ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهٖ، وَأَمَّا الكَافِرُ فَذَكَرَ مَوْتَهٗ، قَالَ: وَيُعَادُ رُوْحُهٗ فِيْ جَسَدِهٖ وَيَأْتِيْهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهٖ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِيْ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: مَا دِيْنُكَ؟ فَيَقُوْلُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِيْ، فَيَقُوْلَانِ: مَا هٰذَا الرَّجُلُ الَّذِيْ بُعِثَ فِيْكُمْ؟ فَيَقُوْلُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِيْ، فَيُنَادِيْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ فَأَفْرِشُوْهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوْهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوْا لَهٗ بَابًا إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَيَأْتِيْهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُوْمِهَا، قَالَ: وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهٗ حَتّٰى يَخْتَلِفَ فِيْهِ أَضْلَاعُهٗ، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهٗ أعْمَى أَصَمُّ مَعَهٗ مَرْزَبَةٌ مِنْ حَدِيْدٍ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهٗ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرب إِلَّا الثَّقَلَيْنِ،فَيَصِيْرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعَادُ فِيْهِ الرُّوْحُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
وعن البراء بن عازب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: ربي الله ، فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: ديني الإسلام، فيقولان له: ما هذا الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هو رسول الله صلى الله عليه وسلم، فيقولان له: وما يدريك؟ فيقول: قرأت كتاب الله فآمنت به وصدقت؛ فذلك قوله: {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت} الآية قال: فينادي مناد من السماء أن صدق عبدي فأفرشوه من الجنة، وألبسوه من الجنة، وافتحوا له بابا إلى الجنة فيفتح، قال: فيأتيه من روحها وطيبها، ويفسح له فيها مد بصره، وأما الكافر فذكر موته، قال: ويعاد روحه في جسده ويأتيه ملكان فيجلسانه، فيقولان له: من ربك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، فيقولان: ما هذا الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، فينادي مناد من السماء أن كذب فأفرشوه من النار، وألبسوه من النار، وافتحوا له بابا إلى النار، قال: فيأتيه من حرها وسمومها، قال: ويضيق عليه قبره حتى يختلف فيه أضلاعه، ثم يقيض له أعمى أصم معه مرزبة من حديد، لو ضرب بها جبل لصار ترابا، فيضربه بها ضربة يسمعها ما بين المشرق والمغرب إلا الثقلين،فيصير ترابا، ثم يعاد فيه الروح". رواه أحمد وأبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے براءابن عازب سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں ۱؎پھر اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون؟وہ کہتا ہے میرا رب الله ہے پھر کہتے ہیں تیرا دین کیا وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۲؎پھر وہ کہتے ہیں یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے تو وہ کہتا ہے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرشتے کہتے ہیں۔تجھے یہ کیسے معلوم ہوا ۳؎وہ کہتا ہے میں نے الله کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا،اسے سچا جانا۴؎یہ ہی اس آیت کی تفسیر ہے "یُثَبِّتُ اللهُ"الایہ۔فرمایاحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پھر آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے ۵؎لہذا اس کے لیے جنت کا بستر بچھاؤ اسے جنت کا لباس پہناؤاور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دو پس کھول دیا جاتا ہے فرماتے ہیں کہ اس تک جنت کی ہوا اور وہاں کی خوشبو آتی ہے ۶؎اور تاحد نظر قبر میں فراخی کردی جاتی ہے ۷؎رہا کافرحضور نے اس کی موت کا ذکر فرمایا ۸؎فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں پھر وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون ہے؟وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۹؎پھر اس سےپوچھتے ہیں تیرا دین کیا؟وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۱۰؎پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے ۱۱؎وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۱۲؎تب پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے ۱۳؎لہذا اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤآگ کا لباس پہناؤ اور اس کے لیے آگ کی طرف دروازہ کھول دو فرمایا پھر اس تک وہاں کی گرمی اور لو آتی ہے۱۴؎فرمایا اس پر اس کی قبر تنگ ہوجاتی ہے۔حتی کہ وہاں اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں۱۵؎پھر اس پر اندھے بہرے فرشتے مسلط ہوتے ہیں۱۶؎جن کے پاس لوہے کے ہتھوڑے ہوتے ہیں اگر ان سے پہاڑ کو مارا جائے تو وہ بھی مٹی ہوجائے اس سے اسے مارتے ہیں ایسی مار جس سے جن و انس کے سوا پورب پچھم کی مخلوق سنتی ہے ۱۷؎جس سے وہ مٹی ہوجاتا ہے پھر اس میں روح لوٹائی جاتی ہے ۱۸؎(احمد، ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎خیال رہے کہ لیٹے ہوئے کا بیٹھنا جلوس ہے اور کھڑے ہوئے کا بیٹھنا قعود کبھی مجازًا ایک کو دوسرے کے معنے میں استعمال کرلیتے ہیں یہاں حقیقی معنے میں ہے۔یہاں بٹھالنا بھی غیرحسی ہے،مردے خانہ میں کافر کی لاشیں ہمارے سامنے پڑی رہتی ہیں مگر فرشتے اسے بٹھال کر امتحان لے کر عذاب میں گرفتار کرجاتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں لگتا ہمارے سامنے سونے والا بدخوابی میں تکلیف پارہا ہے گھبرا رہا ہے مگر ہمیں خبر نہیں۔
۲؎یہ سوال جواب سب عربی زبان میں ہوتے ہیں بعد موت سب کی زبان عربی ہوجاتی ہے۔(مرقاۃ)لیکن مردہ اپنی زندگی کی زبان بھی سمجھتا ہے۔ہمارے حضور زندگی شریف میں تمام زبانیں جانتے ہیں حتی کہ لکڑی و پتھر کی زبانیں،جانور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم )سے فریادیں کرتے تھے اور اب بھی ہر زبان سے واقف ہیں،حضور کے روضہ پر ہر فریادی اپنی زبان میں عرض و معروض کرتا ہے وہاں ترجمہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
۳؎یہ سوال خوشی کا ہے یعنی اے بندے!اس نازک موقعہ پر تو نے انہیں کیسے پہچان لیا اور تو امتحان میں کامیاب کیسے ہوگیا؟
۴؎یعنی بلاواسطہ میں نے قرآن شریف خو د سیکھا یا علماء کے ذریعہ اس سے عقائد اور اعمال حاصل کیئے لہذا یہ جواب علماء کے لیئے بھی درست ہے اور جاہلوں کے لیے بھی،اس جواب سے معلوم ہوا کہ قبر میں حضور کی پہچان ایمانی رشتہ سے ہوگی خواہ حضور کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔خیال رہے کہ مؤمن ایک لحاظ سے حضور سے قرآن کو جانتا ہے اور دوسرے لحاظ سے قرآن سے حضور کو پہچانتا ہے۔
۵؎عبدیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام رب کا ہے۔جسے بندہ آج پہلی بار اپنے کان سے سنتا ہے اس کلام کو سن کر جو خوشی بندے کو ہوتی ہے وہ بیان نہیں ہوسکتی،سچا ہے کہ یہ معنی ہیں کہ دنیا میں بھی سچا رہا اور آج بھی سچ بولا۔
۶؎پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ قبر میں جنت کی نعمتیں پہنچتی ہیں مگر بندہ وہاں نہیں پہنچا،بندے کاجنت میں پہنچنا حشر کے بعد ہوگا۔
۷؎یہ حدیث ستر۷۰گز فراخی کی تفسیر ہے۔
۸؎کہ کس مصیبت سے اس کی جان نکلتی ہے،نیز اسے دنیا چھوٹنے کا صدمہ،عذاب کے فرشتوں کی ہیبت،آیندہ عذاب کا ڈرسب جمع ہوجاتے ہیں۔مؤمن کو اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔
۹؎معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے دنیا میں حضور سے رشتہ غلامی نہ جوڑا۔اگرچہ وہ توحید کےقائل رہے مگر قبر میں توحید وغیرہ سب کا سب بھول جائیں گے کیونکہ یہ جواب ہر کافر کا ہوگا۔دہریہ ہو یا مشرک ہو یا شیطانی توحید والا موحّد۔
۱۰؎یعنی اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ دنیا میں میں نے اسلام کے سوا کون سا دین اختیار کیا تھا کیونکہ سارے کفر شیطانی دین ہیں،جن کی بنیاد نفسانی ہے،مرتے ہی شیطان ساتھ چھوڑ گیا نفس ٹوٹ گیا۔جب جڑ ہی کٹ گئی شاخیں کیسے باقی رہیں۔
۱۱؎معلوم ہوا کہ کافر میت کو بھی حضور کا دیدار کرایا جاتا ہے مگر وہ پہچان نہیں سکتا کیونکہ ان کی پہچان بصارت سے نہیں ہوتی بلکہ د ل کی بصیرت سے ہوتی ہے۔نابینا صحابہ نے حضور کو دیکھ لیا آنکھ والے کافر حضور کو نہ دیکھ سکے،بصارت سرمہ سے تیز ہوتی ہے،بصیرت مقبولین کے آستانوں کی خاک سے۔
۱۲؎اس جواب سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جیسا بشر اور بڑا بھائی کہنے کو ایمان سمجھتے ہیں اگر اس سے ایمان مل جاتا تو یہ کافر کہہ سکتا تھا کہ یہ ایک بشر ہیں یا میرے بھائی ہیں،بشریت مصطفوی پہچاننے پر نجات نہیں نبوت کے پہچاننے پر نجات ہے بشریت تو ابوجہل بھی مانتا تھا۔
۱۳؎کیونکہ یہ کہتا ہے کہ میں انہیں جانتا ہی نہیں حالانکہ زندگی میں انہیں جادوگر،شاعر،اپنے جیسا بشر،بڑا بھائی کہتا تھا اور یہاں کہتا ہے میں جانتا ہی نہیں جس کو واقعی حضور کی نبوت کی اطلاع نہ پہنچی ہو اس کے لیئے صر ف عقیدہ توحید کافی ہے اور اس سے یہ سوال جواب بھی نہیں،نیز حضور کی نبوت مشرق و مغرب میں پھیل چکی اب جو دانستہ اس سے غافل رہے وہ بھی مجرم ہے اورلا ادریکہنے میں جھوٹا ہے۔خیال رہے کہ یہاںعبدینہ فرمایا کیونکہ یہ لفظ رحمت کا ہے اور کفرمستحق لعنت۔
۱۴؎یعنی آگ کے شعلے دھواں بلکہ وہاں کے سانپ بچھو بھی اور گرم ہوا بھی بعض قبروں میں یہ چیزیں دیکھی بھی گئیں،اللہ کی پناہ۔
۱۵؎یہ تنگی بھی تاقیامت رہتی ہے جیسے کہ گرمی اورآگ۔
۱۶؎ان عذاب کے فرشتوں کا نام زبانیہ ہے اندھے بہرے سے مراد سخت دل بے رحمی اور لاپرواہی ہے کہ اس کی تکلیف دیکھ کر رحم نہیں کرتے آہ و بکاہ سن کر کان نہیں دھرتے۔(اشعۃ)ورنہ اندھا بہرہ ہونا عیب ہے جس سے فرشتے پاک ہیں۔رب قیامت میں کافر سے فرمائے گا"وکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنۡسٰی"حالانکہ رب بھول سےپاک ہے۔
۱۷؎حدیث بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں جن وانس سےعوام مراد ہیں مقبولین یہ آہ و بکا سنتے بھی ہیں بلکہ عذاب قبر دیکھتے بھی ہیں۔
۱۸؎یعنی جیسے دنیا میں سخت تکلیف میں جان نکل جاتی تھی ایسے ہی وہاں بھی ہوگا کہ ہتھوڑے کی ہر چوٹ پر جان نکلے گی پھر ڈالی جائے گی اسی لیئے قیامت میں کافر عرض کریں گے"رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیۡنِ وَ اَحْیَیۡتَنَا اثْنَتَیۡنِ" خدایا تو نے ہمیں بار بار موت و زندگی دی،اس آیت میںاثنتینسے باربار مراد ہے جیسے "فَارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ"۔غرض کہ یہ آیت اس حدیث کی تفسیر ہے اس آیت کی اورتفسیریں بھی کی گئی ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 131