- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 130
باب: عذاب قبر کا ثبوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 130
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا أُقْبِرَ الْمَيِّتُ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: الْمُنْكَرُ، وَللآخَرِ: النَّكَيرُفَيَقُوْلَانِ: مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِي هٰذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ:هٰذَا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهٗ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ، فَيَقُوْلَانِ: قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُوْلُ هٰذَا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهٗ فِيْ قَبْرِهٖ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فِيْ سَبْعِيْنَ، ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهٗ فِيْهِ، ثُمَّ يُقَالُ لَهٗ: نَمْ، فَيَقُولُ: أَرْجِعُ إِلٰى أَهْلِيْ فَأُخْبِرُهُمْ، فَيَقُولَانِ: نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهٗ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهٖ إِلَيْهِ،حَتّٰى يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهٖ ذٰلِكَ، وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ قَوْلًا فَقُلْتُ مِثْلَهٗ لَا أَدْرِيْ، فَيَقُوْلَانِ: قَدْ كنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُوْلُ ذٰلِكَ، فَيُقَالُ لِلأَرْضِ: الْتَئِمِيْ عَلَيْهِ، فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ، فَتَخْتَلِفُ أَضْلَاعُهٗ، فَلَا يَزَالُ فِيْهَا مُعَذَّبًا حَتّٰى يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهٖ ذٰلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا أقبر الميت أتاه ملكان أسودان أزرقان، يقال لأحدهما: المنكر، وللآخر: النكيرفيقولان: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول:هذا عبد الله ورسوله، أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول هذا، ثم يفسح له في قبره سبعون ذراعا في سبعين، ثم ينور له فيه، ثم يقال له: نم، فيقول: أرجع إلى أهلي فأخبرهم، فيقولان: نم كنومة العروس الذي لا يوقظه إلا أحب أهله إليه،حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك، وإن كان منافقا قال: سمعت الناس يقولون قولا فقلت مثله لا أدري، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول ذلك، فيقال للأرض: التئمي عليه، فتلتئم عليه، فتختلف أضلاعه، فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك". رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میت دفن کی جاتی ہے ۱؎تو اس کے پاس دو سیاہ رنگ نیلی آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں ۲؎ایک کو منکر دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے ۳؎وہ کہتے ہیں کہ تو ان صاحب کے بارے میں کیا کہتا تھا؟۴؎تو میت کہتا ہے یہ الله کے بندے ہیں اور اس کے رسول میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد الله کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۵؎تب وہ کہتے ہیں ہم تو جانتے تھے کہ تو یہ کہے گا ۶؎پھر
اس کی قبر میں فراخی دی جاتی ہے ستر ۷۰ گز میں ۷؎پھر اس کے لیے وہاں روشنی کردی جاتی ہے ۸؎پھر اسے کہا جاتا ہے سو جا وہ کہتا ہے میں اپنے گھر جاؤں تاکہ انہیں یہ خبر دوں ۹؎تو وہ کہتے ہیں دلہن کی طرح سوجا جسے اس کے پیارے خاوند کے سوا گھر کا کوئی نہیں جگاتا۱۰؎تا آنکہ الله اسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر مردہ منافق ہو تو کہتا ہے کہ میں نے لوگوں سے کچھ کہتے سنا تھا اسی طرح میں بھی کہہ دیتا تھا میں نہیں پہچانتا۱۱؎تب وہ کہتے ہیں کہ ہم تو جانتے تھے کہ تو یہ کہے گا۱۲؎پھر زمین سے کہا جاتا ہے کہ اس پر تنگ ہو جاؤ اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ مردے کی پسلیاں ادھر ادھر ہو جاتی ہیں ۱۳؎پھر وہ قبر کے عذاب میں ہی رہتا ہے تاآنکہ الله اسے اس ٹھکانے سے اٹھائے ۱۴؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎دفن کا ذکر اتفاقی ہے۔چونکہ عرب میں عام مردے دفن ہی ہوتے تھے اس لیئے فرمایا گیا ورنہ جو مردہ دفن نہ بھی ہو بلکہ اسے جلا کر خاک کیا گیا ہو یا شیرو مچھلیاں کھا گئیں ہوں اس کے اجزائے اصلیہ سے روح متعلق کردی جاتی ہے۔اورسوال جواب ہوجاتے ہیں اگرچہ وہ اجزاء دنیا میں بکھرے ہوں۔(مرقات ولمعات وغیرہ)
۲؎یہ دونوں فرشتے وہ ہیں جو حساب قبر پر مقرر ہیں یہ انسانی شکل بنا کر اس رنگ میں اس لیئے آتے ہیں تاکہ ان کی ہیبت سے کفار تو گھبرا جائیں اور حیرانی سے جواب نہ دے سکیں اورمؤمن مطمئن رہیں اور با آسانی جواب دیں یہ گھبراہٹ اور اطمینان کافر و مؤمن میں فرق کرنے کے لیئے ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نورانی مخلوق میں بیک وقت ہزار ہا جگہ موجود ہوجانے کی طاقت ہے،دو فرشتے ایک آن میں ہزار قبروں میں پہنچ جاتے ہیں،لہذا بعض اولیاء کا بیک وقت چند جگہ پایا جانا ممکن ہے۔دوسرے یہ کہ جب نور شکل انسانی میں آئے تو جسم انسانی کے لوازمات اس میں پائے جائیں گے،فرشتے نور ہیں اور نورنہ کالا ہو نہ نیلا مگر جب شکل انسانی میں آئے تو ان کے چہرے کا رنگ کالا بھی ہوگیا،آنکھیں نیلی بھی۔موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی جب سانپ بنتی تو کھاتی پیتی بھی تھی "تَلْقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ"ہاروت فرشتے جب شکل انسانی میں آئے تو کھاتے پیتے بلکہ صحبت بھی کرسکتے تھے،اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ اگر حضور نور تھے تو کھاتے پیتے کیوں تھے۔
۳؎ان لفظوں کے معنے ہیں اجنبی جس کو دیکھ کر گھبراہٹ ہو چونکہ میت نے انہیں کبھی دیکھا نہیں ہوتا ان کی شکل ہیبت ناک بھی ہوتی ہے
ا سیلئے ان کا یہ نام ہے۔شیخ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ کافروں کے سوال کرنے والے فرشتوں کا یہ نام ہے۔اورمؤمنوں کے ممتحنوں کا نام مبشر اور بشیر ہے مگر ناموں کا فرق ہے ذات ایک ہی ہے۔
۴؎مرقاۃ میں فرمایا کہ شکلِ پاک مصطفےٰ ہرقبر میں جلوہ گرہوتی ہے جیسے ہر آئینہ میں سورج۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ قبر سے روضۂ اطہر تک کے حجاب اٹھا دیئے جاتے ہیں،جس سے میت بے تکلف جمالِ جہاں آرا کا نظارہ کرتا ہے۔بعض نے فرمایا کہ مؤمن سے پھر یہ جمال تا قیامت غائب نہیں ہوتا،اسی لیئے بعض عشاق موت کی تمنا کرتے ہیں حضور نے حضرت فاطمہ زہرا سے فرمایا کہ میرے اہل بیت میں پہلے تم مجھ سے ملو گی یا ازواج پاک سے فرمایا کہ تم میں جو زیادہ سخی ہوگی وہ مجھ سے پہلے ملے گی اس کا یہی مطلب ہے۔ خیال رہے کہ ان فرشتوں کا حضور انور کورجلفرمانا تو ہین کے لیے نہیں کہ یہ کفر ہے بلکہ امتحان کی تکمیل کے لیئے ہے کہ اگر وہ نبی یا رسول کہہ دیتے تو امتحان ہی کیا ہوتا۔
۵؎قبر میں سوال بھی تین ہوتے ہیں اور جواب بھی تین،مگر یہاں سوال تو ایک فرمایا گیا جو سب کو جامع تھا۔اور جواب تینوں کا توحید کا بھی،دین کا،اور رسالت کا بھی۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ بندہ حضور ہی کو دیکھتا ہے نہ کہ آپ کے فوٹو کو ورنہ یہ جواب عین کفر ہوتا۔کیونکہ حضور کے فوٹو کو نبی کہنا ایسے ہی کفرہے جیسے رب کے نام کا پتھر گھڑکر اسے خداکہنا۔
۶؎یعنی یہ سوال جواب قانونی طور پر ہے ہم تیرے ایمان سے بے خبر نہ تھے۔معلوم ہوا کہ فرشتے ہر شخص کی سعادت اور شقاوت،کفر و ایمان سے خبردار ہیں۔ہمارے حضور جو اعلم الخلق ہیں ان کے علم کاکیا پوچھنا،مرقات میں فرمایا کہ فرشتے مؤمن میت کی پیشانی میں نور ایمان کی شعاع عبادت کا اثر اور سعادت کی علامتیں دیکھتے ہیں۔جیسے قیامت میں ہرشخص مؤمن و کافر کو پہچان لے گا رب فرماتا ہے:"یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌ"۔
۷؎یعنی چار ہزار نوسوگز جو ستر کی ضرب ستر میں دینے سے حاصل ہے،یعنی سترگز لمبی سترگز چوڑی کل رقبہ چار ہزار نوسو،یہ بیان وسعت کے لیئے ہے نہ کہ حصر کے لیئے۔بعض روایتوں میں ہے تاحد بصر وہ اس کی تفسیر ہے۔
۸؎یہ روشنی چاند سورج وغیرہ کی نہیں ہوتی بلکہ نورِ الٰہی یا نور مصطفوی کی جگمگاہٹ ہوتی ہے ممکن ہے کہ ایمان قلبی کا نور ہو تب بھی وہی ہے۔
۹؎کہ میں کامیاب ہوگیا اور نہایت آرام سے ہوں۔معلوم ہوا کہ میت اپنے گھروالوں کو پہچانتا ہے اور وہاں پہنچنے کی بھی طاقت رکھتا ہےکیونکہ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم مجھے لے چلو یا سواری لاؤ بلکہ کہتا ہے میں جاتا ہوں اگرچہ اس کے گھر والے صدہا کوس ہوں۔
۱۰؎مرقات میں فرمایا کہ یہاں سونے سے مراد آرام کرنا ہے یعنی یہ برزخی زندگی آرام سے گزار کہ تجھ تک سوا خدا کی رحمت کے کوئی آفت یا بلا نہیں پہنچ سکے گی جیسے کہ عروس دلہن کے پاس دلہا کے سوا کوئی نہیں پہنچتا یہ نیند غفلت والی مراد نہیں،رب فرماتا ہے: "یُرْزَقُوۡنَ فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللهُ مِنۡ فَضْلِہٖ وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ"۔اس آیت سےمعلوم ہوا کہالله کےمقبول قبرمیں جنتی روزی کھاتے ہیں،خوش و خرم رہتے ہیں اور دنیا کے لوگوں کی خبر رکھتے ہیں،اگر وہ سوگئے ہوتے تو پھل کیسے کھاتے،یہاں کی خبر کیسے رکھتے،نیز قبرستان میں پہنچ کر سلام کرنا سنت نہ ہوتا کیونکہ سوتوں کو سلام کرنامنع ہے لہذا اس حدیث سے وہابی دلیل نہیں پکڑسکتے،یہ حدیث بزرگوں کے عرس کا ماخذ ہے چونکہ فرشتوں نے اس دن صاحبِ قبر کو عروس کہا ہے لہذا اس دن کا نام روزِ عرس ہے موت مؤمن کی شادی کا اور کافر کی گرفتاری کا دن ہے۔
۱۱؎معلوم ہوا کہ دلی ایمان قبر میں ساتھ جائے گا نہ کہ زبانی اسلام۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی۔
۱۲؎کیونکہ لوحِ محفوظ ہمارے سامنے ہے،تیرا کفر پر مرنا ہمیں معلوم ہے،تیری پیشانی میں کفر کی تاریکی دیکھ رہے ہیں،یہ سوال جواب محض قانون کے لیئے ہیں۔
۱۳؎یعنی دائیں پسلیاں بائیں اور بائیں پسلیاں دائیں طرف لیکن اس کی یہ حالت ہماری حس سے بالا ہے اگر ہم کافر کی لاش دیکھیں تو ویسی ہی صحیح معلوم ہوگی۔خیال رہے کہ اگر ایک ہی قبر میں کافر و مؤمن دفن ہوگئے تو وہ ہی قبر مؤمن کے لیئے فراخ ہوگی اورکافر کے لیئے تنگ،مؤمن کے لیئے روشن اور کافر کے لیئے اندھیری،مؤمن کے لیئے ٹھنڈی کافر کے لیئے گرم،اور مؤمن کے لیئے مہکی ہوئی،کافر کے لیئے بدبودارجیسے ایک بستر میں دو آدمی سو رہے ہوں ایک اچھی اور دل خوش کن خواب دیکھے،دوسرا پریشان کن اور ہیبت ناک خواب دیکھے،بستر ایک ہے مگر دونوں کی حالتیں مختلف،خواب بزرخ کی ایک تمثیل ہے،خواب اکثر خیال ہوتی ہے۔بزرخ میں حقیقت ہوگی،پسلیاں فرمانا سمجھانے کے لیئے ورنہ جن کفار کی پسلیاں راکھ بنادی گئیں یا جانوروں نے ہضم کر لیں ان کی روح پربھی تنگی ایسی ہی ہوگی اس کے لیئے قبر ایک شکنجہ ہے۔
۱۴؎یعنی قیامت تک معلوم ہوا کہ کافر کا عذاب کسی تدبیر سے بھی ختم یا ہلکا نہیں ہوسکتا،گنہگار مؤمن کا عذاب قبر بزرگوں کے قدم،زندوں کے ایصالِ ثواب وغیرہ سے ہلکا ہوجاتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 130