Main Icon

باب: عذاب قبر کا ثبوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 134

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَيُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِيْ قَبْرِهٖ تِسْعَةٌ وَتِسْعُوْنَ تِنِّيْنًا تَنْهَسُهٗ وَتَلْدَغُهٗ حَتّٰى تَقُوْمَ السَّاعَةُ لَوْ أَنَّ تِنِّيْنًا مِنْهَا نَفَخَ بالأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضِرًا". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهٗ، وَقَالَ: "سَبْعُوْنَ" بَدَلَ "تِسْعَةً وَتسْعُوْنَ

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ليسلط على الكافر في قبره تسعة وتسعون تنينا تنهسه وتلدغه حتى تقوم الساعة لو أن تنينا منها نفخ بالأرض ما أنبتت خضرا". رواه الدارمي، وروى الترمذي نحوه، وقال: "سبعون" بدل "تسعة وتسعون

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر پر اس کی قبر میں ننانوے۹۹ سانپ مسلط کیے جاتے ہیں ۱؎جو اسے قیامت تک نوچتے اور ڈستے رہیں گے ۲؎اگر ان میں سے ایک سانپ زمین پر پھونک مار دے تو کبھی سبزہ نہ اگائے ۳؎اسے دارمی نے روایت کیا اور ترمذی نے بھی اسی کی مثل روایت کی انہوں نے ننانوے کی بجائے ستر فرمائے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎تنینزہر والے اژدھے کو کہتے ہیں چونکہ کافراللہ کے ننانوے ناموں کا منکر تھا۔اسی لئے اس پر ننانوے سانپ مقرر ہوئے نیز اللہ کی سو رحمتیں ہیں ایک دنیا میں ننانوے مؤمنوں پر آخرت میں کافروں پر ان نعمتوں کے عوض سانپ مقرر ہوئے۔
۲
؎گوشت نوچنا،زہر نہ پہنچانانھسہے اور دانت مار کر زہر چھوڑ دینالدغیعنی کوئی نوچے گا کوئی ڈسے گا۔
۳
؎اس طرح کہ اس کی گرمی اور زہر کی وجہ سے مٹی پک جائے اور سبزے کے قابل نہ رہے آج جہاں ایٹم بم پڑا ہے وہاں کا علاقہ ناقابل کاشت ہوگیا۔
۴
؎ستر سے مراد بے شمار لینا یہ ننانوے کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 134