باب : نبوت کی نشانیاں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5859
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلٰى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ثُمَّ جَلَسَتْ تُفْلِي رَأسَهٗ فَنَامَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللّٰهِ يَرْكَبُونَ بِثَجِّ هٰذَاالْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهٗ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللّٰهِ».كَمَا قَالَ فِي الأولى. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ.قَالَ:«أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ». فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل على أم حرام بنت ملحان وكانت تحت عبادة بن الصامت فدخل عليها يوما فأطعمته ثم جلست تفلي رأسه فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ وهو يضحك قالت: فقلت: ما يضحكك يا رسول الله؟ قال: «ناس من أمتي عرضوا علي غزاة في سبيل الله يركبون بثج هذاالبحر ملوكا على الأسرة أو مثل الملوك على الأسرة» . فقلت: يا رسول الله ادع الله أن يجعلني منهم فدعا لها ثم وضع رأسه فنام ثم استيقظ وهو يضحك فقلت: يا رسول الله ما يضحكك؟ قال: «ناس من أمتي عرضوا علي غزاة في سبيل الله».كما قال في الأولى. فقلت: يا رسول الله ادع الله أن يجعلني منهم.قال:«أنت من الأولين». فركبت أم حرام البحر في زمن معاوية فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر فهلكت(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ام حرام بنت ملحان کے پاس جاتے تھے ۱؎وہ حضرت عبادہ ابن صامت کی بیوی تھیں ایک دن حضور انکے پاس تشریف لے گئے انہوں نے حضور کو کچھ کھلایا پھر بیٹھ گئیں آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے لگیں ۲؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم سو گئے پھر ہنستے ہوئے جاگے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا کیا چیز آپ کو ہنسا رہی ہے یارسول الله تو فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے الله کی راہ میں غازی جو اس سمندر کی فراخی میں سوار ہوں گے۳؎جیسےتختوں پر بادشاہ یا بادشاہوں کی طرح۴؎تختوں پر میں نے عرض کیا یارسول الله حضور الله سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان سے کرے ۵؎حضور نے ان کے لیے دعا فرمائی ۶؎پھر حضور نے سر رکھا اور سو گئے پھر جاگے ہنستے ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول الله کیا چیز حضور کو ہنساتی ہے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے الله کی راہ میں غازیانہ شان سے جیساکہ پہلی بار میں فرمایا تھا۷؎تو میں نے عرض کیا یارسول الله حضور الله سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کرے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو۸؎چنانچہ حضرت معاویہ کے زمانہ میں ام حرام سمندر میں سوار ہوئیں ۹؎پھر جب سمندر سے نکلیں تو اپنی سواری سے گرگئیں اور فوت ہوگئیں ۱۰؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ ام حرام بنت ملحان ابن خالد ہیں،بنی نجار قبیلہ سے ہیں،ام سلیم کی بہن ہیں لہذا حضر ت انس کی خالہ ہیں،آپ کا نام معلوم نہیں ہوسکا کنیت ہی میں مشہور ہیں،عبادہ ابن صامت کی بیوی ہیں،اپنے خاوند کے ساتھ روم گئیں،مقام قبرص میں سواری سے گرکر فوت ہوئیں وہاں ہی آپ کا مزا ر ہے،خلافت عثمانیہ میں وفات پائی۔(اکمال)
۲؎حضرت ام حرام حضور صلی الله علیہ و سلم کی محرمہ ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔گفتگو اس میں ہے کہ محرمہ کیوں تھیں یا تو آپ کی رضاعی خالہ ہیں یا حضرت عبدالله کی خالہ ہیں یا عبدالمطلب کی کیونکہ عبدالله اور عبدالمطلب بنی نجار کے رشتہ دار ہیں۔ (مرقات)بہرحال حضور انور کا ان کے پاس جانا،کھانا پینا،وہاں سونا ان کا حضور انور کا سر شریف دیکھنا بالکل جائز تھا۔خیال رہے کہ لیٹے ہوئے آدمی کے سر کو کھجلانا ٹٹولنا اس کے راحت کا باعث ہے ام حرام کا یہ عمل شریف اس لیے تھا۔
۳؎یعنی میری وفات کے بعد میری امت کے شاندار غازی جہاد کے لیے سمندر کا سفر کریں گے یہ پہلا سمندری حملہ ہوگا جو وہ لوگ کریں گے۔ثجث کے فتحہ جیم کے شد سے بمعنی چوڑائی،بلندی،گہرائی اور انسان کی پیٹھ و کندھے کے درمیان کی جگہ،یہاں پہلے معنی میں ہے بحر سے مراد بحر عرب یعنی سمندر ہے۔
۴؎یہ شک راوی کو ہے کہملوکًافرمایا یامثل ملوكفرمایا۔اس فرمان عالی میں دو باتیں بتائیں: ایک یہ کہ وہ غازی سادہ زندگی سادہ لباس والے نہیں بلکہ شاہانہ شان و شوکت والے ہوں گے،شاہانہ شان سے سمندر کا سفر کریں گے۔ دوسرے یہ کہ یہ لوگ الله کے بڑے ہی مقرب بندے ہوں گے کہ باوجود شاہانہ شان اور دنیاوی عیش و آرام اور عیش کے ساز و سامان کے اپنے گھر چھوڑ کر جہاد کرنے نکلیں گے،مقبولین بارگاہ ہوں گے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تبسم فرمانے سے معلوم ہوا کہ سرکار کو اپنی امت کے شان و شوکت دیکھ کر خوشی ہوئی کیوں نہ ہو کہ بچوں کی شان سے باپ کو خوشی ہوتی ہے۔
۵؎حضرت ام حرام نے محسوس کرلیا کہ حضور انور ان غازیوں سے بہت ہی خوش ہیں اور وہ لوگ سارے کے سارے بخشے ہوئے ہیں،تو عرض کیا کہ حضور دعا فرمادیں کہ میں بھی ان میں سے ہوؤں تاکہ آپ کی نگاہ کرم اور الله تعالٰی کی بخشش کی حصہ دار ہوجاؤں۔
۶؎حضور انور کی دعا کی برکت سے ام حرام الله کے ہاں ان غازیوں کی فہرست میں آگئیں جیساکہ آگے معلوم ہورہا ہے۔
۷؎یعنی اس دوسری خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے غازی دکھائے گئے جو اس سمندر میں اسی نیت جہاد سے اسی ملک روم کا سفر کریں گے مگر یہ لوگ وہ ہی پہلے والے نہ ہوں گے بلکہ دوسرے لوگ ہوں گے،بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ دونوں جماعتیں مغفور ہوں گی۔
۸؎یعنی تم کو اس جہاد میں شرکت کا موقعہ نہیں ملے گا کیونکہ تم پہلے جہاد میں شہید ہوچکی ہوگی یہ جہاد تمہاری وفات کے بعد ہوگا۔اس فرمان عالی سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ وہ سارے مجاہدین دنیا و آخرت میں مؤمن ہوں گےکہ انہیںامتیفرمایا۔دوسری روایت میں ہے کہ انہیںمغفورینفرمایا۔دوسرے یہ کہ مجاہدین شاہانہ شان و شوکت کے مالک ہوں گے اس وقت مسلمانوں کے پاس دولت ملک بہت ہوگی۔تیسرے یہ کہ ان کے یہ دونوں جہاد قبول ہوں گے اور حضور ان دونوں قسم کے غازیوں سے راضی و خوش ہیں اسی لیے حضور یہ خواب دیکھ کر مغموم نہیں ہوئے بلکہ خوش ہوئے۔چوتھے یہ کہ اس جہاد میں شریک ہونے والے بڑے درجات والے ہوں گےاگرچہ ان میں سے بعض کو جنگ کا موقعہ نہ ملے جیسے خود ام حرام کا واقعہ ہوا۔پانچویں یہ کہ حضور ہرشخص کے وقت موت اور جگہ موت سے خبردار ہیں کہ فرما دیا تم اس دوسرے جہاد کے وقت فوت ہوچکی ہوگی۔چھٹے یہ کہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھی جلیل القدر صحابہ ہیں جنتی ہیں کہ یہ واقعہ امیر معاویہ کے زمانہ ہی میں تو پیش آیا جس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی خوشی منائی دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ پر ایک نظر۔
۹؎یہاں امیر معاویہ کے زمانہ سے مراد آپ کی سلطنت کا زمانہ نہیں ہے بلکہ آپ کی گورنری کا زمانہ ہےکیونکہ یہ پہلا جہاد روم خلافت عثمانیہ ۲۸ ∞ اٹھائیس میں واقعہ ہوا۔(اشعہ)اس جہاد کی کمان امیر معاویہ کر رہے تھے لہذافی زمن معاویۃفرمایا گیا۔
۱۰؎یہ واقعہ ۲۸ھ ∞میں ہوا،آپ مقام قبرص میں اس طرح شہید ہوئیں۔خیال رہے کہ دوسرا جہاد روم امیر معاویہ کی سلطنت کے زمانہ میں ہوا، ۵۱ ∞ اکیاون ہجری میں اس جہاد میں یزید ابن معاویہ غازیوں کا جرنیل تھا اور اس میں حضرت عبدالله ابن عمر،عبدالله ابن عباس،ابو ایوب انصاری،امام حسین وغیرہم جلیل القدر صحابی غازیانہ شان سے شامل تھے۔اس جہاد میں حضرت ابو ایوب انصاری نے قسطنطنیہ(استنبول)میں وفات پائی،یزید ابن معاویہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور یزید ہی نے انہیں قسطنطنیہ(استنبول)کی فصیل کے نیچے دفن کیا اور وہاں کے عیسائیوں سے کہا کہ اگر تم نے اس قبر کی بے حرمتی کی تو میں تمہارے سارے گرجے جو ہمارے ملک میں ہیں ان کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔دیکھو قسطلانی شرح بخاری پارہ گیارہ باب قتال روم اور اکمال۔جو لوگ کہتے ہیں کہ امام حسین نے کفار سے جہاد کوئی نہ کیا وہ جھوٹے ہیں،جہاد روم کے اس جہاد میں امام حسین شریک تھے،اسی لشکر میں امام حسین کی شرکت البدایہ والنہایہ میں ہے۔ غرضکہ پہلا جہاد حضرت امیرمعاویہ کے دور گورنری میں ان کے زیر اہتمام ہوا اور دوسرا جہاد امیرمعاویہ کے دور سلطنت میں ہوا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5859