باب : نبوت کی نشانیاں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5858
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ خبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَامِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً فَقُلْنَا: أَلَا تَدْعُو اللّٰهَ فَقَعَدَ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهٗ وَقَالَ«كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهٗ فِي الْأَرْضِ فَيُجْعَلُ فِيهِ فَيُجَاءُ بِمِنْشَارٍ فَيُوضَعُ فَوْقَ رَأْسِهٖ فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ فَمَا يَصُدُّهٗ ذٰلِكَ عَنْ دِينِهٖ وَاللّٰهِ لَيَتِمَّنَّ هٰذَاالْأَمْرُ حَتّٰى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلٰى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ أَوِ الذِّئْبَ عَلٰى غَنَمِهٖ وَلٰكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ»رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن خباب بن الأرت قال: شكونا إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة في ظل الكعبة وقد لقينامن المشركين شدة فقلنا: ألا تدعو الله فقعد وهو محمر وجهه وقال«كان الرجل فيمن كان قبلكم يحفر له في الأرض فيجعل فيه فيجاء بمنشار فيوضع فوق رأسه فيشق باثنين فما يصده ذلك عن دينه والله ليتمن هذاالأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخاف إلا الله أو الذئب على غنمه ولكنكم تستعجلون»رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت خباب ابن ارت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی الله علیہ و سلم کی بارگاہ میں شکایت کی جب کہ حضور کعبہ کے سایہ میں چادر کا تکیہ لگائے لیٹے تھے ہم نے مشرکین سے بہت سختی جھیلی تھی تو ہم نے عرض کیا کہ حضور الله سے دعا کیوں نہیں فرماتے ۲؎تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے چہرہ انور سرخ تھا ۳؎اور فرمایا کہ تم سے اگلوں میں ایک شخص کے لیے گڑھا کھودا جاتا تھا اسے اس گڑھے میں دبایا جاتا تھا پھر آرا لایا جاتا تھا وہ اس کے سر پر رکھا جاتا تھا وہ قاشیں کرکے چیر دیا جاتا تھا یہ اسے اس کے دین سے نہ روکتا تھا۴؎اور اس کے گوشت کے نیچے ہڈیوں پٹھوں تک پہنچا کر لوہے کی کنگھیوں سے اسے کنگھی کی جاتی تھی اور یہ اسے اس کے دین سے نہ روکتا تھا۵؎خدا کی قسم یہ دین پورا ہوکر رہے گا ۶؎حتی کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا۷؎کسی سے خوف نہ کرے گا سواء الله کے یا سواء بھیڑیئے کے اپنی بکریوں پر مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو۸؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،قبیلہ بنی تمیم سے ہیں،زمانہ جاہلیت میں آپ کو غلام بنالیا گیا تھا پھر بنی خزاعہ کی ایک عورت نے آپ کو خرید لیا اور آزاد کردیا،ابھی حضور انور دار ارقم میں پہنچے نہیں تھے کہ یہ مسلمان ہوگئے،کفار کے ہاتھوں آپ نے بہت ہی ایذائیں پائیں اور صابر رہے بعد میں کوفہ میں قیام رہا وہاں ہی دفن ہوئے،تہتر سال عمر ہوئی ۳۷ھ ∞سینتیس میں وفات پائی۔ (مرقات،اکمال)
۲؎یعنی ہم نے اپنے جسم کے زخم اور تکالیف کے نشانات حضور انور کو دکھا کر یہ عرض کیا کہ ان مشرکین پر حضور بد دعا فرمادیں کہ یہ سب ہلاک ہوجاویں اور ہم کو انکی شر سے امن مل۔
۳؎یا تو اس لیے چہرہ سرخ تھا کہ حضور انور دھوپ میں لیٹے تھے یا اس لیے کہ کفار کی ایذا رسانی کی خبر سے یا مسلمانوں کی جلد بازی ملاحظہ فرماکر صدمہ ہوا اس سے چہرہ انور سرخ ہوگیا۔
۴؎یعنی پچھلی امتوں میں مؤمنوں پر ایسی سختی کی جاتی تھی کہ انہیں زندہ کو آرے سے چیر دیا جاتا تھا وہ چر جاتے تھے مگر ایمان نہ چھوڑتے تھے نہ ان مصیبتوں سے گھبراتے تھے۔
۵؎یعنی لوہے کی نوکیلی اور دھار دار کنگھیاں ان کی کھوپڑی میں ٹھونکی جاتی تھیں جب وہ دماغ کی تہہ تک پہنچ جاتی تھیں تو انہیں پیچھے کی طرف زور سے کھینچا جاتا تھا جس سے ان کا بھیجہ تک کھنچ کر باہر نکل پڑتا تھا مگر وہ لوگ اس کے باوجود نہ گھبراتے تھے نہ ایمان چھوڑتے تھے تو تمخیر الاممہو تمہاری استقامت ان سے زیادہ چاہیے،دنیاوی تکالیف سے مت گھبراؤ یہ عارضی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسروں کے قصے سناکر تسلی دینا سنت رسول ہے صلی الله علیہ وسلم بلکہ قرآن کریم نے بھی اس قسم کے بہت سے واقعات بیان فرمائے ہیں۔
۶؎یہاں دین پورا ہونے سے مراد ہے اسلام کا پھیلنا،مسلمانوں کا غالب آجانا کفار کا مغلوب ہوجانا،مسلمانوں کی سلطنت میں امن و امان قائم ہوجانا۔اس ایک کلمہ میں بہت سی بشارتیں ہیں،رب فرماتاہے:"وَیَاۡبَی اللهُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ"اور فرماتاہے: "لِیُظْهِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ"۔
۷؎صنعاء یمن کا ایک کنارہ ہے حضر موت دوسرا کنارہ ان دونوں شہروں میں بڑا فاصلہ ہے۔حضر موت وہ شہر ہے جہاں صالح علیہ السلام تشریف لائے اور وہاں ان کی وفات ہوئی،نیز جرجیس علیہ السلام وہاں آئے وہاں ان کی وفات ہوئی اس لیے اس کا نام حضر موت رکھا گیا۔(مرقات)اس شہر میں بڑے اولیاء الله پیدا ہوئے حتی کہ کہا جاتا ہے حضر موت ینبت الاولیاء یعنی حضر موت شہر ولی اُگاتا ہے۔(اشعۃ اللمعات)ایک قبیلہ کا نام بھی حضر موت ہے یہ قبیلہ جہاں رہتا تھا اس جگہ کا نام حضر موت ہوا۔
۸؎چنانچہ یہ ساری باتیں خلاف عثمانیہ میں مکمل طور پر ظاہر ہوئیں وہاں ایسا امن و امان قائم ہوا کہسبحان الله!جس وقت حضور انور نے یہ خبریں دی تھیں اس وقت ظاہری اسباب سے یہ بات ناممکن معلوم ہوتی تھی الله نے اس ناممکن کو واقع کر دکھایا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5858