باب : نبوت کی نشانیاں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5857
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ ثُمَّ أَتَاهُ الْآخَرُ فَشَكَا إِلَيْهِ قَطْعَ السَّبِيلِ. فَقَالَ: " يَا عَدِيُّ هَل رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟ فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ فَلَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتّٰى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰهَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرٰى وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يَخْرُجُ مِلْءَ كَفِّهٖ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهٗ فَلَا يجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهٗ مِنْهُ وَلَيَلْقَيَنَّ اللّٰهَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَلَيْسَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهٗ تَرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهٗ فَلَيَقُولَنَّ: أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ رَسُولًا فَيُبَلِّغُكَ؟ فَيَقُولُ: بَلٰى. فَيَقُولُ: أَلَمْ أُعْطِكَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَيْكَ؟ فَيَقُولُ: بَلٰى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهٖ فَلَا يَرَى الا جَهَنَّمَ وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهٖ فَلَا يَرَى الا جَهَنَّمَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " قَالَ عَدِيٌّ: فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتّٰى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰهَ وَكُنْتُ فِيمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرٰى بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ مِلْءَ كَفِّهٖ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن عدي بن حاتم قال: بينا أنا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتاه رجل فشكا إليه الفاقة ثم أتاه الآخر فشكا إليه قطع السبيل. فقال: " يا عدي هل رأيت الحيرة؟ فإن طالت بك حياة فلترين الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحدا إلا الله ولئن طالت بك حياة لتفتحن كنوز كسرى ولئن طالت بك حياة لترين الرجل يخرج ملء كفه من ذهب أو فضة يطلب من يقبله فلا يجد أحدا يقبله منه وليلقين الله أحدكم يوم يلقاه وليس بينه وبينه ترجمان يترجم له فليقولن: ألم أبعث إليك رسولا فيبلغك؟ فيقول: بلى. فيقول: ألم أعطك مالا وأفضل عليك؟ فيقول: بلى فينظر عن يمينه فلا يرى الا جهنم وينظر عن يساره فلا يرى الا جهنم اتقوا النار ولو بشق تمرة فمن لم يجد فبكلمة طيبة " قال عدي: فرأيت الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف إلا الله وكنت فيمن افتتح كنوز كسرى بن هرمز ولئن طالت بكم حياة لترون ما قال النبي أبو القاسم صلى الله عليه وسلم: «يخرج ملء كفه. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے فرماتے ہیں ۱؎کہ جبکہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اس نے آپ سے فاقہ کی شکایت کی پھر آپ کے پاس دوسرا آیا اس نے حضور سے ڈکیتی کی شکایت کی۲؎تو فرمایا اے عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے۳؎اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم ایک بڑھیا کو دیکھو گے کہ حیرہ سے چلے گی حتی کہ کعبہ کا طواف کرے گی خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرے گی۴؎اور اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے ۵؎اور اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم آدمی دیکھو گے کہ لپ بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اسے تلاش کرے گا جو اسے قبول کرے تو ایسا ایک شخص بھی نہ ملے گا۶؎جو اس سے قبول کرے اور رب سے ملاقات کے دن تم میں سے ہر ایک اپنے رب کو یوں ملے گا کہ اس کے اور رب کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا ۷؎جو اسے ترجمہ کرے،رب فرمائے گا کہ کیا میں نے تیری طرف رسول نہ بھیجا ۸؎جو تجھے تبلیغ کرے بندہ کہے گا ہاں،پھر فرمائے گا کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تجھ پر فضل نہیں کیا بندہ کہے گا۹؎ہاں تو وہ اپنے داہنے دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر دوزخ اور اپنے بائیں دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر دوزخ ۱۰؎آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کی قاش کے ذریعہ جو یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات کے ذریعہ ۱۱؎عدی فرماتے ہیں کہ میں نے بڑھیا کو تو دیکھ لیا کہ وہ حیرہ سے چلتی ہے حتی کہ کعبہ کا طواف کرتی ہے کہ الله کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی ۱۲؎اور میں خود ان لوگوں میں تھا جنہوں نے کسریٰ ابن ہرمز کے خزانے فتح کیے اور اگر تم لوگوں کی عمر دراز ہوئی تو تم وہ بھی دیکھ لو گے جو ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آدمی لپ بھر سونا لے کر نکلے گا ۱۳؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت عدی صحابی ہیں،یہ حاتم کے بیٹے ہیں،یہ حاتم وہ ہے جو مشہور سخی گزرا ہے،آپ اپنے والد حاتم ابن عبد ابن سعد کی وفات کے بعد شعبان ۷ھ ∞ میں ایمان لائے بعد میں کوفہ میں رہے،حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے، جمل کے دن آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی تھی،ایک سو بیس سال کی عمر پائی، ۶۷ھ ∞ میں وفات پائی مقام فرقلیہ میں قبر ہے۔ (اکمال)
۲؎معلوم ہوا کہ اس وقت قحط سالی اور راستہ کی بد امنی شباب پر تھی،لوگوں کے گھروں میں رزق نہ تھا باہر جا کر کمانے کے لیے راہ میں امن نہ تھی کریں تو کیا۔
۳؎حیرہ نیشاپور کا ایک محلہ بھی ہے اور کوفہ کے قریب ایک بستی بھی یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔حضرات صحابہ نے اس زمانہ میں فارس کا ملک وہاں کے شہریوں کے محلے نہیں دیکھے تھے۔
۴؎یہ بشارت ڈکیتی کی شکایت کا جواب ہے کہ عنقریب ایسا امن و امان کا زمانہ آنے والا ہے۔ظعینۃبنا ہےظعنسے بمعنی اونٹ کا ہودج یا ہودج کا سوار یعنی مسافر ظعینہ مسافرہ عورت۔یہاں سفر حج کی مسافرہ عورت مراد ہے۔اس فرمان عالی میں اشارۃً فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے زندگی میں یہ امن و امان دیکھ لو گے اسلام کی سخت سزاؤں نے عرب جیسے ملک میں امان قائم کردی جہاں صدیوں سے ڈکیتی چوری قزاقی وغیرہ تھی۔
۵؎کسریٰ لقب تھا بادشاہ ایران کا یہ اصل میں خسرو تھا بمعنی بڑے ملک کا مالک۔خسرو فارسی لفظ ہے،اس سے عربی میں کسریٰ بنایا گیا لہذا یہ معرب ہے۔کنوزفرماکر یہ بتایا کہ تم صرف ملک ایران ہی فتح نہیں کرو گے بلکہ ان کے سونے سے بھرے ہوئے خزانے بھی حاصل کرو گے یہ بشارت عہد فاروقی میں ظاہر ہوئی۔
۶؎یعنی لوگوں میں مال کی بہت ہی فراوانی ہوگی ساتھ ہی ایمانداری تقویٰ دیانت بھی کمال درجہ کی ہوگی کہ اس وقت نہ تو کوئی فقیر ہوگا جو زکوۃ لینے کے قابل ہو نہ کوئی طمع کا مارا لالچی ہوگا جو خواہ مخواہ زکوۃ لے لے اگرچہ فقیر نہ ہو جیسا آج ہو رہا ہے کہ بعض امیر لوگ فقیر بن کر زکوۃ لے لیتے ہیں اس زمانہ میں قناعت بھی ہوگی۔یہ واقعہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمۃ الله علیہ کے زمانہ میں ہوچکا اور قریب قیامت امام مہدی و عیسیٰ علیہما السلام کے دور میں ہوگا۔یہاں پہلے واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس لیے فرمایا کہ اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ لو گے جس سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ صحابہ کرام دیکھیں گے۔ (مرقات و اشعۃ اللمعات)بیہقی نے اس پر یقین فرمایا کہ یہ واقعہ ہوچکا حضرت عمر ابن عبدالعزیز کے زمانہ میں۔
۷؎یعنی تم لوگ قیامت میں براہ راست بلاواسطہ اپنے رب سے کلام کروگے یہ کلام عربی زبان میں ہوگا۔قیامت کا سارا کاروبار بلکہ آج نامہ اعمال کی تحریر،قبر میں منکر نکیر کے سوالات سب عربی زبان میں ہیں،مرتے ہی انسان کی زبان عربی ہوجاتی ہے۔رب تعالٰی کے ہاں سرکاری زبان عربی ہے اس لیے فرمایا کہ لوگ اپنی دنیاوی بولیاں نہ بولیں گے تاکہ رب کا عربی کلام انہیں سمجھانے کے لیے کوئی ترجمہ کرنے والا درمیان میں نہ ہو۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم خود تو عربی بولتے تھے مگر ساری زبانیں سمجھتے تھے حتی کہ جانوروں کی بولیاں بھی سمجھ لیتے تھے اس لیے اونٹوں چڑیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانہ پر فریاد کی اور داد پائی،اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا۔شعر
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
اسی در پر شتران ناشاد شکوہ ٔ رنج وعنا کرتے ہیں
۸؎الله تعالٰی سب سے پہلے اپنی اس نعمت کا اقرار کرائے گا جو ساری نعمتوں کی اصل بلکہ ساری نعمتوں کو نعمت بنانے والی ہے یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم کی تشریف آوری کہ الله کی ساری نعمتیں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے ماتحت استعمال کی جاویں تو نعمتیں ہیں ورنہ عذاب ہیں ہمارے خلاف گواہ۔
۹؎اس فرمان عالی میں یہ بتایا گیا کہ مال وغیرہ انسان کی محض اپنی کوشش سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ الله تعالٰی کے فضل سے ملتا ہے۔شیخ سعدی فرماتے ہیں؎بہ ناداں چناں روزی رساند کہ دانا اندراں حیراں بماند
اگر بہ ہر سرمویت ہنر دو صد باشد ہنر بہ کارنہ آید چوبخت بدباشد
۱۰؎اس عبارت میں روئے سخن بخیل مالداروں کی طرف ہے جو مال کا واجبی صدقہ نہ دیں،صحابہ کرام سے خطاب نہیں کہ وہ لوگ حضور صلی الله علیہ و سلم کی صحبت پاک کی برکت سے اعلیٰ درجہ کے متقی اول درجے کے سخی تھے جیساکہ حدیث اور تاریخ خواں حضرات سے چھپا نہیں۔
۱۱؎یہاں کلمہ طیبہ سے مراد یا تو کلمہ شہادت ہے یا الله کا ہر ذکر ہے یا فقیر سے اچھی بات کہہ دینا معزرت کردینا آئندہ کے لیے وعدہ کرلینا کہ ابھی کچھ نہیں جب کچھ ہوگا تبان شاءاللهتم کو دیں گے اسی کو قرآن مجید نے قول معروف فرمایا ہے۔خیال رہے کہ حضور انور نے آئندہ دولت کی خبریں دے کر انہیں سخاوت دینداری پر قائم رہنے کی تاکید فرما دی،یہ ہے قوم کی اصلاح۔
۱۲؎یعنی خلافت فاروقی میں ایران فتح ہوا،اس کا دارالخلافہ مدائن مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔مدائن میں شاہی محل جسے فارسی میں کوشک کہتے ہیں۔مسلمانوں نے حاصل کیا وہاں کے بے پناہ خزانے مسلمانوں کو ملے،اس جہاد میں میں خود موجود تھا اور یہ امن و امان خلافت عثمانیہ میں بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی کہ حیرہ سے بوڑھی عورت اکیلی مکہ معظمہ آرہی ہے اور راستہ میں کسی ڈکیتی وغیرہ کا اسے خطرہ نہیں حضور انور کی یہ دو پیش گوئیاں تو میں نے دیکھ لیں۔
۱۳؎یعنی میرا اب آخری وقت آچکا ہے غالبًا تیسری پیش گوئی تم لوگ دیکھو گے کہ کوئی زکوۃ قبول کرنے والا نہ ملے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت عدی ابن حاتم حضرت عمر ابن عبدالعزیز کے زمانہ سے پہلے وفات پاگئے ہیں جیساکہ پہلے کہا گیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5857