Main Icon

باب : نبوت کی نشانیاں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5853

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهٗ الآنَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إني لأعرف حجرا بمكة كان يسلم علي قبل أن أبعث، إني لأعرفه الآن » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں مکہ کے وہ پتھر پہچانتا ہوں جو نبوت کے ظہور سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ۱؎میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بعض شارحین نے کہا کہ یہ پتھر سنگ اسود ہے مگر صحیح تر یہ ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جو مکہ معظمہ میں زقاق الحجر میں واقع ہے۔زقاق الحجرمکہ معظمہ کا ایک محلہ ہے جو کعبہ معظمہ اور جناب خدیجہ کے گھر کے درمیان واقع ہے،اس پتھر میں حضور انور کی کہنی کے آثار موجود ہیں،لوگ خصوصًا اہل مکہ اسی پتھر کی زیارت کرتے ہیں دور دور سے لوگ اس کی زیارت کو آتے ہیں۔ (مرقات،اشعۃ اللمعات)اب نجدیوں کی برکت سے یہ تبرکات گم ہوگئے۔
۲
؎وہ پتھر یوں کہتا تھاالسلام علیك یارسول الله السلام علیك یا حبیب اللهجیساکہباب المعجزاتمیں آوے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور اپنی نبوت سے بچپن شریف میں ہی خبردار تھے۔مکہ معظمہ کے پتھر اور در و دیوار حضور کی نبوت کی گواہی دے چکے تھے،پہلی وحی کے سارے واقعات حضور کی بے علمی کی بنا پر نہیں جیساکہ ہم ابھی پچھلے باب میں عرض کرچکے ہیں۔جو لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت حضور کو اپنی نبوت کی خبر نہ تھی،آپ نے حضرت جبریل کو نہ پہچانا یا یہ کہ خدیجہ کبریٰ اور ورقہ ابن نوفل کے بتانے سے حضور نے اپنے کو نبی جانا غلط ہے۔آج بچپن شریف میں پتھر تک حضور کو رسول الله نبی الله کہہ کر سلام کررہے پھر بے خبری کیسے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5853