Main Icon

باب : نبوت کی نشانیاں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5855

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً دُونَهٗ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن مسعود قال: انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرقتين: فرقة فوق الجبل وفرقة دونه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اشهدوا. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہوکر پھٹا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا ٹکڑا اس کے نیچے تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا گواہ رہو ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند ٹوٹ کر اس کے دونوں ٹکڑے اپنی جگہ سے نہ ہٹے بلکہ ایک ٹکڑا اپنی جگہ رہا دوسرا جگہ سے ہٹا تھا۔دونھاکے معنی یہ نہیں کہ چاند کا وہ ٹکڑا زمین پر اترآیا تھا پہاڑ کے نیچے پہنچ گیا تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ آسمان کے کناروں کی طرف پہنچ گیا جو پہاڑ کے نیچے نظر آتا تھا جیسے چاند یا سورج نکلتے وقت درختوں کی شاخوں کی سیدھ میں نظر آتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5855