Main Icon

باب:کھڑے ہونے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4701

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: جَاءَنَا أَبُوْ بَكْرَةَ فِيْ شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهٗ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهٖ فَأَبٰى أَنْ يَجْلِسَ فِيْهِ وَقَالَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ذَا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهٗ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن سعيد بن أبي الحسن قال: جاءنا أبو بكرة في شهادة فقام له رجل من مجلسه فأبى أن يجلس فيه وقال: أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ذا ونهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يمسح الرجل يده بثوب من لم يكسه. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن ابی الحسن سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک گواہی میں ابوبکرہ ۲؎آئے تو ایک شخص ان کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا آپ نے وہاں بیٹھنے سے انکار فرمایا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۳؎اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی اپنے ہاتھ اس کے کپڑے سے پونچھے جسے یہ پہنے ہوئے نہیں ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎سعید ابن ابی الحسن تابعی ہیں،خواجہ حسن بصری کے بھائی ہیں،آپ کے والد کا نام یسار ہے،کنیت ابوالحسن، یہ سعید اپنے بھائی حسن بصری سے ایک سال پہلے فوت ہوئے یعنی ۱۰۹ھ؁∞ ایک سو نو ہجری میں حضرت عبداللہ ابن عباس ،ابوہریرہ وغیرہ سے آپ کی ملاقات ہے،آپ کے بھائی قتادہ نے آپ سے احادیث روایت کیں۔(مرقات و اشعہ)۲؎حضرت ابوبکرہ کا نام نقیع ابن حارث ہے،ثقفی ہیں،مشہور صحابی،آپ کے حالات و وفات پہلے بیان ہوچکے۔
۳
؎یہ آپ کی انتہائی تواضع ہے وہ شخص آپ کے لیے خود جگہ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا آپ کو وہاں بیٹھنا بالکل جائز تھا۔کسی کو اس کی جگہ سے بلاضرورت ہٹاکر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے جب کہ وہ جگہ اس کی ہو اپنی نہ ہو،چونکہ یہاں اس کا یہ عمل اس ممنوع چیز کے مشابہ تھا لہذا آپ وہاں نہ بیٹھے یا شاید اس شخص کو کسی اور نے اٹھایا ہوگا تاکہ آپ وہاں بیٹھ جائیں اس لیے آپ نہ بیٹھے۔(مرقات)۴؎یعنی اپنے گیلے یا کھانے وغیرہ سے لتھڑے ہوئے ہاتھ دوسرے کے کپڑے سے بغیر اس کی اجازت نہ پونچھو جب کہ تم نے یہ کپڑا اسے نہ پہنایا ہو لہذا اپنے بیٹے اپنے غلام کے کپڑے سے ہاتھ پونچھنا جب کہ وہ کپڑا خود اس ہی نے پہنایا ہو جائز ہے، یوں اگر وہ شخص ہمارے اس عمل سے ناراض نہ ہو تو بھی جائز ہے۔(مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4701