Main Icon

باب:کھڑے ہونے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4699

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَة قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن معاوية قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سره أن يتمثل له الرجال قياما فليتبوأ مقعده من النار رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے لیے سروقد کھڑے رہیں ۱∞؎تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۲؎(ترمذی و ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث نے ممانعت قیام کی تمام حدیثوں کی شرح کردی کہ جو کوئی اپنے لیے قیام تعظیمی کرانا چاہے اس کے لیے نہ کھڑے ہو یا اس طرح کھڑے ہونا ممنوع ہے کہ مخدوم بیٹھا ہوا ہو اور لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں دست بستہ اور یہ عمل تکبروغرور کے لیے ہو ضرورۃً نہ ہو تب سخت ممنوع ہے۔عالم دین کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا یوں ہی عادل حاکم کے روبرو کھڑا ہونا خصوصًا مقدمہ والوں کا یوں استاذ کے سامنے شاگردوں کا کھڑا ہونا مستحب ہے اگرچہ یہ حضرات بیٹھے ہوئے ہوں اور شاگردوں وغیرہ کھڑے ہوں۔(مرقات)ہاں مخدومین کا تکبرًا انہیں کھڑا کرنا خود بیٹھے رہنا یہ ممنوع ہے یہ ہی یہاں مراد ہے۔(اشعۃاللمعات)۲؎یعنی اس قسم کی تعظیم کو پسند کرنا یا لوگوں کو ایسی تعظیم کا اپنے لیے حکم دینا جہنمی ہونے کا سبب ہے اور تکبر جہنم کا راستہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4699