Main Icon

باب:کھڑے ہونے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4700

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلٰى عَصًا فَقُمْنَا فَقَالَ: لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي أمامة قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم متكئا على عصا فقمنا فقال: لا تقوموا كما يقوم الأعاجم يعظم بعضها بعضا . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاٹھی پر ٹیک لگائے تشریف لائے ۱∞؎ہم کھڑے ہوگئے تو فرمایا ایسے نہ کھڑے ہو جیسے عجمی لوگ کھڑے ہوتے ہیں ان کے بعض بعض کی تعظیم کرتے ہیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

ا؎غالبًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس لیے عصا پر ٹیک لگائے تشریف لائے۔
۲
؎یعنی تمہارا یہ قیام تو ٹھیک ہے مگر عجمیوں کا سا قیام نہ کرنا کہ مخدوم بیٹھا ہو خدام سامنے دست بستہ سر و قد کھڑے ہوئے ہوں اور مخدوم اس تعظیم کی خواہش بھی کرتا ہوکہ ایسا قیام ممنوع ہے یہ قیود خیال میں رہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں قیام سے مراد وقوف ہے یعنی کسی کے لیے تعظیمًا کھڑا رہنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4700