Main Icon

باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1377

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلیٰ كُلِّ مُسْلِمٌ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا عَلیٰ أَرْبَعَةٍ: عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَوِ امْرَأَةٍ أَوْ صَبِيٍّ أَوْ مَرِيضٍ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِيْ وَائِل

وعن طارق بن شهاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الجمعة حق واجب علی كل مسلم في جماعة إلا علی أربعة: عبد مملوك أو امرأة أو صبي أو مريض ". رواه أبو داود وفي شرح السنة بلفظ المصابيح عن رجل من بني وائل

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت طارق ابن شہاب سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جمعہ ہر مسلمان پرباجماعت حق ہے فرض ہے سوائے چار شخصوں کے مملوک غلام، عورت،بچہ،بیمار ۲؎(ابوداؤد)اورشرح سنہ میں بالفاظ مصابیح بنی وائل کے ایک شخص سے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ احمس سےہیں،کوفی ہیں،حضورصلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہے مگر فرمان بہت کم سنے،زمانہ صدیقی و فارقی میں۳۴غزوؤں میں شریک ہوئے،۸۲ھ ∞ میں وفات پائی۔۲؎بیمار سے وہ بیمارمراد ہے جسےمسجد میں آنے میں حر ج ہو،یہ مطلب نہیں کہ سرمیں درد ہو جمعہ چھوڑ دو۔خیال رہے کہ حصر اضافی ہے ورنہ مجنون،مسافر،نابینا اور گاؤں والوں پربھی جمعہ فرض نہیں لیکن اگر یہ لوگ جمعہ پڑھ لیں تو ان کا فرض ادا ہوجائے گا اورظہر واجب نہ ہوگی۔خیال رہے کہ جمعہ کے لیے جماعت شرط ہے یعنی امام کے علاوہ تین آدمی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1377