Main Icon

باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1375

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْجُمُعَةُ عَلیٰ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم : «الجمعة علی من سمع النداء» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جمعہ اس پر ہے جو اذان سنے ۱∞؎(ابو داؤد)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مضافات شہر میں جہاں تک اذان کی آواز پہنچے ان پر جمعہ فرض ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شہر کے آس پاس رہنے والوں پربھی جمعہ فرض ہے جسے فناءشہر کہتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس شہری نے جمعہ کی اذان سن لی وہ اب بغیر جمعہ پڑھے سفرکو نہ جائے یا یہ مطلب ہے کہ اذان سنتے ہی دنیوی کاروبار چھوڑ دو،جمعہ کی تیاری کرو۔یہاں اذان سے دوسری اذان مراد ہے کیونکہ پہلی اذان حضورصلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی ہی نہیں،بعض نے فرمایا کہ اس سے اذان اول مراد ہے جو زمانہ عثمانی میں پیدا ہونے والی تھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کے احکام آج بیان فرمادیئے۔۲؎شیخ ابن حجر فرماتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے مگر بیہقی نے اس کی تائید دوسری حدیث سے کی لہذا اب یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1375