Main Icon

باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1371

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضُّمَيْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللهُ عَلیٰ قَلْبِهٖ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَارمِيْ

عن أبي الجعد الضميري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله علی قلبه».رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالجعدضمری سے ۱∞؎فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو تین جمعے سستی سے چھوڑ دے الله اس کے دل پر مہر کردے گا۲؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎بعض لوگوں نے کہا کہ آپ کا نام وہب ہے،کنیت ابوجعد قبیلہ بنی ضمرہ ابن بکر ابن عبد مناف سے ہیں۔ان کے نام میں بڑا اختلاف ہے،آپ صحابی ہیں اور آپ سے ایک ہی حدیث منقول ہے،جنگ جمل میں شہید ہوئے۔۲؎سستی کی قید سے معلوم ہوا کہ معذور کا یہ حکم نہیں،مہر سے مراد غفلت کی مہر ہے نہ کہ کفر کی کیونکہ جمعہ چھوڑنا فسق ہے، کفر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض گناہ دل کی سختی کاباعث ہیں اور گناہ صغیرہ بار بار کرنے سے گناہ کبیرہ بن جاتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1371