Main Icon

باب : نوافل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1327

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ إِلَى اللهِ أَوْ إِلٰى أَحَدٍ مِّنْ بَنِيْ آدَمَ فَليَتَوَضَّأ فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوءَ ثُمَّ لْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لْيُثْنِ عَلَی اللهِ تَعَالٰى وَلْيُصَلِّ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لْيَقُلْ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهٗ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهٗ وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن عبد الله بن أبي أوفى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من كانت له حاجة إلى الله أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ فليحسن الوضوء ثم ليصل ركعتين ثم ليثن علی الله تعالى وليصل علی النبي صلى الله عليه وسلم ثم ليقل: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم لا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضى إلا قضيتها يا أرحم الراحمين ". رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس کو الله سے یا کسی انسان سے حاجت ہو ۱∞؎تو وہ اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں پڑھ لے پھر الله کی حمد کرے اور نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجے ۲؎پھر کہے رب کے سوا کوئی معبود نہیں،حلم والا ہے،کرم والا ہے، الله پاک ہے،بڑے عرش کا مالک ہے۳؎سب تعریفیں جہانوں کے مالک الله کی ہیں الٰہی میں تجھ سے تیری رحمت کے اسباب اور تیری بخشش کے اعمال اور ہر نیکی میں سے غنیمت اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتا ہوں ۴؎میرا کوئی گناہ بغیر بخشے اور کوئی غم بغیر دور کیے نہ چھوڑ جو تیری رضا کا باعث ہے مگر اسے پوری کردے اے رحم کرنے والوں سے بڑا رحم کرنے والے۔(ترمذی و ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ حقیقتًا حاجت روا الله تعالٰی ہی ہے لیکن بعض حاجتیں براہ راست اس سے مانگی جاتی ہیں اور بعض کسی مخلوق کے ذریعہ سے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض بندے حاجت روا ہوتے ہیں اور انہیں مجازی حاجت روا جان کر مشکل کشائی کے لیئے ان کے پاس جانا شرک نہیں۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ حاجت سے مراد دینی دنیاوی ساری حاجتیں ہیں۔۲؎اس نماز کا نام نماز حاجت ہے اس کی ترکیب ادا اوربھی وارد ہیں۔۳؎عظیمکو کسرہ یعنی زیر بھی پڑھا گیا ہے اور پیش بھی،یعنی الله عظمت والے عرش کا مالک ہے یا عرش کا مالک ہے اور عظمت والا ہے۔۴؎یعنی مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جوتیری رحمت کے ملنے کا ذریعہ ہیں اور ایسی توبہ کی ہدایت دے جو تیری مغفرت کا سبب ہے اور مجھے توفیق دے کہ ہر نیک عمل کرسکوں،چونکہ نیکی میں روح اور روح کا شکر،نفس اور نفس کے شکر پر غالب آتا ہے،پھر بندہ نیکی کرتا ہے اس لیئے اسے غنیمت فرمایا گیاکہ اس سے گناہ صغیرہ مراد ہیں کیونکہ گناہ کبیرہ اور حقوق العباد بغیر توبہ اور حق ادا کیئے معاف نہیں ہوتے اور کبیرہ سے مراد اضافی کبیرہ ہیں کیوں کہ گناہ صغیرہ میں بھی بعض گناہ بعض سے بڑے ہوتے ہیں۔اورممکن ہے اس سے مراد ہو کہ نمازتسبیح کی برکت سے الله تعالٰی اسے گناہ کبیرہ سے توبہ کی توفیق عطا فرمادے گاجس سے وہ بھی معاف ہوجائیں گے۔۵؎کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال اور دعاؤں میں حدیث ضعیف بھی قبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1327