Main Icon

باب : نوافل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1326

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: «بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهٗ وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلّٰهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «بِهِمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن بريدة قال: أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعا بلالا فقال: «بم سبقتني إلى الجنة ما دخلت الجنة قط إلا سمعت خشخشتك أمامي» . قال: يا رسول الله ما أذنت قط إلا صليت ركعتين وما أصابني حدث قط إلا توضأت عنده ورأيت أن لله علي ركعتين. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «بهما» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صبح کی تو بلال کو بلایا فرمایا کہ تم کس وجہ سے جنت میں مجھ پر سبقت لے گئے میں جنت میں کبھی بھی نہ گیا مگر اپنے سامنے تمہاری آہٹ سنی ۱∞؎عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم میں نے کبھی اذان نہ کہی مگر دو رکعتیں پڑھ لیں اور مجھے کبھی حدث نہ ہوا مگر اسی وقت میں نے وضو کرلیا ۲؎اور میں نے سمجھ لیا کہ مجھ پر الله کے لیئے دو رکعتیں لازم ہیں تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا انہی کی وجہ سے۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی نہایت نفیس شرح ابھی پہلی فصل میں گزر چکی۔اس لفظ سےمعلوم ہورہا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جنت میں بارہا تشریف لے گئے،شب معراج میں جسمانی طور پر اس کے علاوہ روحانی طور پر۔(لمعات)مگر جب بھی تشریف لے گئے حضرت بلال کو خادمانہ طور پر اپنے آگے پایا ایسا ہیاِنْ شَاءَاللّٰهُبعد قیامت جنت میں داخلے کے وقت ہوگا۔الله
۲
؎یعنی میں ہمیشہ باوضو رہتا ہوں اور ہر وضو کے بعد دونفل تحیۃ الوضو اور ہر اذان کے بعد دو رکعتیں تحیۃ المسجد پڑھ لیتا ہوں مگر اس سے مکروہ وقت علیحدہ ہیں جیسے اذان مغرب وغیرہ۔۳؎یعنی ان دو رکعتوں یا ان دو عملوں کی وجہ سے تم نے یہ درجہ پایا۔اس سے معلوم ہوا کہ جو کوئی نفلی عبادت کو واجب کی طرح ہمیشہ ادا کرے تو اس سے نفل حرام نہیں ہوجاتے جیسے کہ علمائے دیوبندسمجھے۔ہم ہمیشہ جمعہ کے دن کپڑے تبدیل کرتے ہیں،رمضان میں مدارس کا امتحان لیتے ہیں وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1326