- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1323
باب : نوافل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1323
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ اَللّٰهُمَّ إِنَّ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أوقَال فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهٖ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهٖ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقَدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهٖ ".قَالَ: «وَيُسَمِّيْ حَاجَتَهٗ». رَوَاهُ البُخَارِيُّ
عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كما يعلمنا السورة من القرآن يقول: " إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أوقال في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به ".قال: «ويسمي حاجته». رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سارے کاموں میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے ۱∞؎فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے ۲؎تو فرض کے سوا دو رکعتیں پڑھے۳؎پھر کہے الٰہی میں تیرے علم کی مدد سے تجھ سے خیرات مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلہ سے تجھ سے قدرت مانگتا ہوں۴؎اور تیرا بڑا فضل مانگتا ہوں تو قادر ہے اور میں قادرنہیں تو جانتا ہے میں نہیں جانتا ۵؎تو غیبوں کا جاننے والا ہے،الٰہی اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے لیے دین و دنیا اور انجام کار میں یا فرمایا میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں بہتر ہو ۶؎تو اسے میرے لیے مقدر فرمادے اور مجھ پر آسان کردے پھر مجھے برکت دے ۷؎اور اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے دین و دنیا میں اور انجام کار میں یا فرمایا کہ میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں شر ہو تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے ۸؎اور میرے لیے بھلائی مقدرکر جہاں ہو۹؎پھر مجھے اس پر راضی کردے فرمایا اور اپنی حاجت کا نام لے ۱۰؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی نماز استخارہ ایسے اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت۔استخارہ کے معنی ہیں خیر مانگنا یا کسی سے بھلائی کا مشورہ کرنا، چونکہ اس دعا و نماز میں بندہ الله سے گویا مشورہ کرتا ہے کہ فلاں کام کروں یا نہ کروں اسی لیئے اسے استخارہ کرتے ہیں۔۲؎بشرطیکہ وہ کام نہ حرام ہو نہ فرض و واجب اور نہ روزمرہ کا عادی کام۔لہذا نماز پڑھنے،حج کرنے یا کھانا کھانے،پانی پینے پر استخارہ نہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس کام کا پورا ارادہ نہ کیا ہو صرف خیال ہو جیسے کوئی کاروبار،شادی بیاہ،مکان کی تعمیر وغیرہ کا معمولی ارادہ ہو اور تردد ہو کہ نہ معلوم اس میں بھلائی ہوگی یا نہیں تو استخارہ کرے۔(لمعات)۳؎خاص استخارہ کے لیئے دن میں یا رات میں مکروہ اوقات کے علاوہ میں۔پہلی رکعت میں"قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"پڑھے دوسری میں"قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ"کہ یہ ہی آسان ہے۔(مرقاۃ)۴؎یعنی اپنی علم وقدرت کے صدقے مجھے اس کام کے انجام سے بھی خبردار کردے اور اگر خیر ہو تو مجھے اس پر قادربھی کردے۔معلوم ہوا کہ الله کے صفات سے امداد طلب کرنا جائز ہے۔۵؎مگر تیرے بتانے سے جانتا ہوں۔(مرقاۃ)یعنی اگر تو مجھے اس کام کا انجام بتادے تو میں بھی جان لوں۔۶؎خیال رہے کہ یہاں الله کے علم میں شک نہیں کہ یہ تو کفر ہے،بلکہ شک و تردد اس میں ہے کہ اس کام کی بہتری ا للہ کے علم میں ہے یا بدتری لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اور الفاظ میں شک راوی کی طرف سے ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے دعا میں یہ الفاظ فرمائے یا وہ۔اب بہتر یہ ہے کہ پڑھنے والا دونوں الفاظ پڑھ لیا کرے۔۷؎یعنی مجھے اس کام پر قدرت بھی دے،اسے آسان بھی کردے اور انجام کار برکت بھی نصیب کر،یہ معنی نہیں کہ میری تقدیر میں لکھ دے کہ تقدیر کی تحریر تو پہلے ہو چکی ہے۔۸؎یعنی مجھے اس کام پر قدرت بھی نہ دے اور میرے دل میں اس سے نفرت بھی پیدا فرمادے کہ چھوٹ جانے پر مجھے رنج و غم بھی نہ ہو،پھیرنے کے یہ معنی بہت مناسب ہیں،اس جملے کے اور معانی بھی ہوسکتے ہیں۔۹؎یعنی اس شر کام سے بچا کر اس کے عوض کوئی اور خیر کام عطا فرمادے اور اس نکاح یا تجارت سے بچا کر دوسری جگہ نکاح یا دوسرا کاروبار عطا فرما۔۱۰؎یعنیھذا الامرکی جگہ اپنے کام کا نام لےھذا النکاحیاھذہ التجارۃیاھذہ التعمیرکہے۔حدیث شریف میں ہے جو استخارہ کرلیا کرے وہ نقصان میں نہ رہے گا اور جو استخارہ کرلیا کرے وہ نادم نہ ہوگا۔اس استخارہ کے بعد پھر جدھر دل متوجہ ہو وہ کرےان شاء اللهکامیابی ہوگی۔بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگر سوتے وقت دو رکعتیں پڑھ کر یہ دعا پڑھے،پھر باوضو قبلہ رو ہوجائے تو اگر خواب میں سبزی یا سفیدی جاری پانی یا روشنی دیکھے تو کامیابی کی علامت ہے اور اگر سیاہی یا گدلا پانی یا اندھیرا دیکھے تو ناکامی اور نامرادی کی علامت ہے سات روز یہ عمل کرےاِنْ شَاءَاللّٰهُاس دوران میں خواب میں اشارہ ہوجائے گا۔استخارہ کے اور بہت طریقے اس جگہ مرقاۃ نے بیان کیئے فرمایا کہ جسے بہت جلدی ہے تو وہ صرف یہ کہہ لے "اَللّٰھُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِیْ وَاجْعَلْ لِّیَ الْخَیْر"اِنْ شَاءَاللّٰهُاس کام میں خیرو برکت ہوگی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1323