Main Icon

باب : نوافل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1324

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللهَ إِلَّا غَفَرَ الله لَهٗ ثمَّ قَرَأَ: (وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوْا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَه لم يَذْكُرِ الْآيَةَ

وعن علي رضي الله عنه قال: حدثني أبو بكر وصدق أبو بكر. قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما من رجل يذنب ذنبا ثم يقوم فيتطهر ثم يصلي ثم يستغفر الله إلا غفر الله له ثم قرأ: (والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم)رواه الترمذي وابن ماجه إلا أن ابن ماجه لم يذكر الآية

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر نے خبر دی اور ابوبکر سچے ہیں ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسا کوئی شخص نہیں جو گناہ کرے پھر اٹھے وضو کرلے پھر نماز پڑھے پھر الله سے معافی چاہے مگر الله اسے بخش دیتا ہے ۲؎پھر یہ آیت پڑھی اور وہ لوگ کہ جب برائی کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرڈالیں تو الله کو یاد کریں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہیں ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)ابن ماجہ نے آیت کا ذکر نہیں کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت علی جب کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتے تو ان سے قسم لیتے تھے کہ واقعی تم نے یہ حدیث حضور صلی الله علیہ وسلم سے سنی ہے سوائے ابوبکر صدیق کے ان کے کلام،حافظہ تعبیر و طریقہ ادا پر آپ کو پورا اعتماد تھا،نیز حضرت ابوبکر روایت حدیث میں بہت ہی محتاط تھے اسی لیئے آپ سے روایات بہت کم منقول ہیں اور اسی لیئے فرماتے ہیں کہ ابوبکر سچے ہیں۔۲؎اس نماز کا نام نماز توبہ ہے۔بہتر یہ ہے کہ اس کی پہلی رکعت میں سورۂ کافرون اور دوسری میں سورۂ اخلاص پڑھے یا پہلی رکعت "وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡافَاحِشَۃً"اور دوسری میں"وَمَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا اَوْیَظْلِمْ نَفْسَہٗ"الا یہپڑھے۔بہتر ہے کہ نماز سے پہلے غسل کرلے اور دھلے کپڑے پہن لے۔۳؎یا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی یا صدیق اکبر نے حدیث کی تائید کے لیئے۔فاحشہ سے مراد گناہ کبیرہ ہیں جیسے کفر و زنا وغیرہ۔اورظلم سے مراد چھوٹے گناہ جیسے عام جھوٹ اور غیبت وغیرہ۔ذکر الله سے مراد الله کے عذاب اور اس کی پکڑ کو یاد کرنا ہے یا نماز توبہ دوسرے معنی ظاہر ہیں کیونکہ نماز توبہ کے موقع پر یہ آیت ارشاد فرمائی گئی۔استغفار کی حقیقت یہ ہے کہ مجرم گزشتہ پر نادم ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرے،اگر حقوق سے توبہ کرتا ہے تو ادا کردے،گناہ پر قائم رہتے ہوئے منہ سے توبہ توبہ کرنا استغفار کی حقیقت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1324