- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 61
باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 61
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتُ وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهُ رَأَسَ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّ بالمعصية حل سخط الله وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ وَإِذا أصَاب النَّاس موت وَأَنت فيهم فَاثْبتْ وَأنْفق عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
عن معاذ قال: أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر كلمات قال لا تشرك بالله شيئا وإن قتلت وحرقت ولا تعقن والديك وإن أمراك أن تخرج من أهلك ومالك ولا تتركن صلاة مكتوبة متعمدا فإن من ترك صلاة مكتوبة متعمدا فقد برئت منه ذمة الله ولا تشربن خمرا فإنه رأس كل فاحشة وإياك والمعصية فإن بالمعصية حل سخط الله وإياك والفرار من الزحف وإن هلك الناس وإذا أصاب الناس موت وأنت فيهم فاثبت وأنفق على عيالك من طولك ولا ترفع عنهم عصاك أدبا وأخفهم في الله. رواه أحمد
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کی وصیّت فرمائی ۱؎فرمایا رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانو اگرچہ ماردئیے جاؤ یا جلا دیئے جاؤ ۲؎اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرو اگرچہ وہ تمہیں اپنے گھر بار اور مال سے نکل جانے کا حکم کریں ۳؎فرض نماز عمدًا ہر گز نہ چھوڑو کیونکہ جو کوئی دانستہ نماز چھوڑ دے اس سےاللہ کا ذمہ و ضمان جاتا رہا ۴؎شراب ہرگز نہ پیو کہ یہ ہر بدکاری کا سر ہے ۵؎گناہ سے اپنے کو بچاؤ کیونکہ گناہ کی وجہ سے اللہ کی ناراضی نازل ہوتی ہے ۶؎جہاد سے بھاگ جانے سے بچو اگرچہ لوگ ہلاک ہوجائیں ۷؎اور جب لوگوں کو وبائی موت پہنچے اور تم ان میں ہو تو ثابت قدم رہو ۸؎اپنے بال بچوں پر اپنی کمائی سے خرچ کرو ۹؎اپنی تربیت کی قمچی ان سے نہ ہٹاؤ ۱۰؎انہیں اللہ سے ڈراتے رہو۔(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی تاکیدی حکم دیا عربی میں تاکیدی حکم کو وصیت کہا جاتا ہے۔رب فرماتا ہے:"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ"۔
۲؎جان کے وقت جان دے دو مگر دل سے کفر و شرک نہ کرو یہ کسی حال میں جائز نہیں،خطرۂ جان کے وقت زبان سے کفربک دینا بشرطیکہ دل میں ایمان ہو جائز ہے۔رب فرماتاہے:"اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمٰنِ"یہاں دلی کفر مراد ہے۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں،نیز جوکوئی جان دے دے اور کلمۂ کفریہ نہ کہے تو اجر کا مستحق ہے۔جان دے دینا عزیمت ہے اور جان بچانا رخصت اگر حدیث کا یہ مطلب ہو تو حضور نے حضرت معاذکو عزیمت کا حکم دیا۔
۳؎یہ حکم استحبابی ہے۔والدین کے حکم پر بیوی کو طلاق دے دینا مستحب ہے،اسمعیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اشارہ پاکر طلاق دے دی یہ مستحب پر عمل تھا مگر باپ کے حکم سے بیوی یا بچوں پر ظلم نہ کرے کہ ظلم سے بچنا اللہ ورسول کا حکم ہے،انکا حکم ماں باپ کے حکم پر مقدم ہے،ایسے ہی اگر ماں باپ کفر یا معصیت کا حکم دیں تو نہ مانے۔رب فرماتاہے:"وَ اِنۡ جٰہَدَاکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشْرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ۙ فَلَا تُطِعْہُمَا"۔
۴؎یعنی بے نمازی اللہ کی امن میں نہیں رہتا۔نماز کی برکت سے انسان دنیا میں آفتوں سے،مرتے وقت خرابی خاتمہ سے،قبر میں فیل ہونے سے،حشر میں مصیبتوں سےبفضلہٖ تعالٰیامن میں رہتا ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ وظیفے،عملیات،تعویذوں کے فائدے حاصل کرنے کیلئے پابندی نماز ضروری ہے۔شیخ و مرید دونوں کو۔
۵؎شراب سے مراد ہرنشہ والی چیز ہےکیونکہ نشہ سے عقل ہی جاتی رہی تو برائی بھلائی کون بتائے،شرابی نشہ میں پیشاب پاخانہ تک کھا پی لیتے ہیں۔خیال رہے کہ ہر پتلی نشہ والی چیز مطلقًا حرام ہے۔شراب انگوری قطعی حرام اور دیگر شرابیں ظنی افیون،بھنگ،تمباکو نشہ دے تو حرام ہے۔
۶؎خیال رہے کہ چھوٹے گناہ کو چھوٹا سمجھ کر مت کرلو۔چھوٹی نیکی کو حقیر جان کر چھوڑ مت دو،چھوٹا گناہ چنگاری کی طرح ہے جو کبھی مکان جلا دیتی ہے۔معمولی نیکی تھوڑے پانی کی طرح ہے جو کبھی جان بچالیتا ہے شیطان پہلے چھوٹے گناہ کراتا ہے،پھر بڑے،پھر کفر شرک،چھوٹا گناہ بھی ہمیشگی سے بڑا بن جاتا ہے۔لہذا حدیث بالکل صحیح ہے یہاں ہر گناہ مراد ہے کہ وہ ناراضیٔ الٰہی کا سبب ہے بالواسطہ یابلاواسطہ۔
۷؎یہ حکم بھی استحبابی ہے اگرکوئی غازی ایسے موقعہ پر ڈٹا رہے اورشہید ہوجائے تو ثواب پائے گا اور اگر بھاگ جائے تو گنہگار نہ ہوگا۔رب فرماتاہے:"اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنۡکُمْ"۔(مرقات)لہذا جنگ احد میں جن صحابه کے قدم اکھڑ گئے وہ گنہگار نہ تھے خطا ان سے ہوئی جو درّہ چھوڑ گئے۔قرآن نے ان کی معافی کا اعلان کردیا۔
۸؎یعنی جہاں تم ہو وہاں طاعون وغیرہ کوئی بیماری پھیل جائے تو وہاں سے بھاگو مت تاکہ وہاں کے مردے بے گورو کفن اور بیمار بے یارو مددگار نہ رہ جائیں،اور جہاں نہیں ہو وہاں جاؤ مت،رب فرماتا ہے:"لَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃ"۔
۹؎معلوم ہوا کہ زن و فرزند پالنے کے لیے کمائی کرنا بھی عبادت ہے۔اسلام ترک دنیا نہیں سکھاتا۔
۱۰؎یعنی بیوی بچوں کے حالات پر نگاہ رکھو ان کی اصلاح کرتے رہو،چھوٹے بچوں کو تو مار سے اور بڑوں کی زبانی ڈانٹ ڈپٹ سے۔قیامت میں تم سے ان کا بھی سوال ہوگا،رب فرماتا ہے:"قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا"۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 61