Main Icon

باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 50

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْيَمِيْنُ الْغَمُوْسُ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم «الكبائر الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبداللہ ابن عمر و سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شرکباللہ،ماں باپ کی نافرمانی ۱؎جان کا قتل،جھوٹی قسم ۲؎بڑے گناہ ہیں اسے بخاری نےروایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان کے حقوق ادا نہ کرنا،یا ان کے جائزحکموں کی مخالفت کرنا،ماں باپ کے حکم میں دادا و دادی اور نانا اور نانی بھی ہیں۔اس ترتیب سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی نافرمانی بدترین جرم ہے کہ شرک کے بعد اس کا ذکر فرمایا گیا۔اسی لئے رب نے اپنی عبادت کے ساتھ ماں باپ کی اطاعت کا ذکر کیا کہ فرمایا:"اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا
۲
؎غموس قسم وہ ہے جو دیدہ ودانستہ گزشتہ واقعہ پر جھوٹی کھائی جائے اس میں گناہ ہے کفارہ نہیں،یہ قسم انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اس لئے اسے غموس کہتے ہیں۔چونکہ جھوٹ اور جھوٹی قسم ہزار ہا گناہوں کی جڑ ہے۔اس لیے یہ گناہ کبیرہ ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات سائلین کے حالات کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 50