- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 58
باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 58
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ صَفْوَانَ ابْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهٖ اِذْهَبْ بِنَا إِلٰى هٰذَا النَّبِيِّ فَقَالَ لَہٗ صَاحِبُهٗ لَا تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعُ أَعْيُنٍ فَأَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَئَلَاهُ عَنْ اٰيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: «لَا تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوْا بِبَرِيءٍ إِلٰى ذِيْ سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلَا تَسْحَرُوْا وَلَا تَأْكُلُوْا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوْا مُحْصِنَةً وَلَا تَوَلَّوْا لِلْفِرَارِ يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً الْيَهُودَ أَنْ لَا تَعْتَدُوْا فِي السَّبْتِ» . قَالَ فَقَبَّلَا يَدَیْهِ وَرِجْلَیْهِ وقَالَ نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُوْنِيْ قَالَ إِنَّ دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ دَعَا رَبَّهٗ أَنْ لَا يَزَالُ مِنْ ذُرِّيَّتِهٖ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
عن صفوان ابن عسال قال: قال يهودي لصاحبه اذهب بنا إلى هذا النبي فقال لہ صاحبه لا تقل نبي إنه لو سمعك كان له أربع أعين فأتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسئلاه عن ايات بينات فقال رسول اللہ: «لا تشركوا بالله شيئا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا تمشوا ببريء إلى ذي سلطان ليقتله ولا تسحروا ولا تأكلوا الربا ولا تقذفوا محصنة ولا تولوا للفرار يوم الزحف وعليكم خاصة اليهود أن لا تعتدوا في السبت» . قال فقبلا يدیه ورجلیه وقال نشهد أنك نبي قال فما يمنعكم أن تتبعوني قال إن داود علیہ السلام دعا ربه أن لا يزال من ذريته نبي وإنا نخاف إن تبعناك أن تقتلنا اليهود. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال سے ۱؎فرماتے ہیں کہ یہودی اپنے ساتھی سے بولا کہ مجھے ان نبی کے پاس لے چل ساتھی بولا کہ انہیں نبی نہ کہو ۲؎اگر وہ سن لیں گے تو انکی چار آنکھیں ہوجائیں گی ۳؎پھر وہ دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کھلی نشانیوں کے بارے میں پوچھا ۴؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کسی چیز کو اللہ تعالٰی کا شریک نہ ٹھہراؤ ۵؎نہ چوری کرو،نہ زنا کرو،نہ ناحق کسی محترم جان کو قتل کرو،نہ کسی بےقصورکو حاکم کے پاس لے جاؤ تاکہ اسے قتل کردے ۶؎اور نہ جادو کرو نہ سود کھاؤ۷؎نہ پاکدامن کو زنا کا بہتان لگاؤ،نہ جہاد کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ پھیرو۸؎اور اے یہودیو تم پر خصوصًا یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نہ بڑھو ۹؎راوی فرماتے ہیں کہ تب ان دونوں نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے۱۰؎اور بولےہم گواہ ہیں کہ آپ سچے نبی ہیں ۱۱؎حضور نے فرمایا پھر تمہیں میری پیروی سے کون چیز روکتی ہے ۱۲؎وہ بولے کہ داؤد علیہ السلام نے رب سے دعا کی تھی کہ انکی اولادمیں نبوت رہے
۱۳؎ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کر لیں تو ہم کو یہودی مار ڈالیں گے۔(ابوداؤد،ونسائی)
شرح حدیث
۱؎آپ صحابی ہیں،کوفے کے رہنے والے،قبیلہ بنی مراد سے ہیں،بارہ غزووں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔
۲؎معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے دل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی گواہی دیتے تھے مگر محض ضد سے انکاری تھے۔
۳؎یعنی وہ خوش ہوجائیں گے اور یہود سے یہ کہہ سکیں گے کہ تمہارے لوگ بھی ہمیں نبی کہتے ہیں۔سبحان ﷲ! عظمت وہ جس کی دشمن بھی گواہی دیں۔
۴؎کھلی نشانیوں سے مراد یا تو وہ نیک اعمال ہیں جو عامل کی نیک بختی کی علامت ہوں،اس صورت میں حضور کا یہ جواب سوال کے مطابق ہے،یااس سے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے ہوئے نو معجزے مراد ہیں۔رب فرماتا ہے:"وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ"ٍ اس صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب حکیمانہ ہے یعنی وہ نہ پوچھو بلکہ اپنی فکر کرو اور کرنے والے اعمال پوچھو۔خیال رہے کہ انہوں نے نو چیزیں پوچھیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دس بتائیں ۹ وہ جو ہر دین کے احکام ہیں اور دسویں وہ جو دین یہود کے ساتھ خاص ہیں،یعنی ہفتہ کو شکار نہ کرنا۔
۵؎ہوسکتا ہے کہ اس میں اشارۃً یہ بتایا گیا ہو کہ یہودی مشرک ہیں۔کیونکہ وہ حضرت عزیز علیہ ا لسلام کو ﷲ کا بیٹا مانتے ہیں۔اور بیٹا باپ کا شریک ہوتا ہے۔
۶؎کہ یہ ڈبل جرم ہے حاکم کو دھوکہ دینا اور بے قصور کی جان لینا یہ بھی عام دینوں میں حرام رہا۔
۷؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سو د کسی نبی کے دین میں جائز نہ ہوا کیونکہ یہ ان اعما ل کی فہرست ہے جو تمام دینوں میں مروّج تھے۔
۸؎یہ حکم بھی تمام دینوں میں رہا جن میں جہاد فرض تھا جن میں جہاد ہی نہ تھا وہاں یہ حکم بھی نہ تھا۔
۹؎اس دن شکار نہ کرو یعنی ہفتہ کو شکار نہ کرنا تمہاری توریت کا حکم ہے یہ تمہارے لئے آیتبیّنہتھی اَب توریت منسوخ ہوچکی یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ساری آسمانی کتب سے واقف ہیں اور یہ واقفیّت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے اسی لیئے وہ سائل حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں گر گئے۔
۱۰؎ظاہر یہ ہے کہ پاؤں شریف پر بھی منہ لگا کر بوسہ دیا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے قدم چومنا جائز ہیں۔اور پابوسی کے لیے جھکنا نہ سجدہ ہے نہ ممنوع ورنہ حضور علیہ السلام انہیں منع فرمادیتے۔خیال رہے کہ قرآن کریم،سنگ اسود،بزرگوں کے ہاتھ پاؤں،والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا ثواب بھی ہے اور باعث برکت بھی۔بعض بزرگ تو اپنے مشائخ کے تبرّکات چومتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا منبر چومتے تھے بوسہ کی بحث اور اُس کی قسمیں ہماری "جاء الحق وزھق الباطل"میں دیکھو۔
۱۱؎کیونکہ امّی کا یہ علم کھلا معجزہ ہے۔خیال رہے کہ یہ گواہی جاننے پہچاننے کے معنی میں ہے یعنی ہم نے پہچان لیا کہ آپ نبی ہیں لہذا وہ اس لفظ سے مؤمن نہ بنے اسی لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا سوال بھی درست ہوا۔
۱۲؎یعنی جب تم نے مجھے نبی جان لیا پھر مان کیوں نہیں لیتے اورمسلمان کیوں نہیں ہوجاتے۔
۱۳؎ان کی یہ دعا قبول ہے اور آپ ان کے اولاد میں نہیں کہ وہ بنی اسرائیل تھے آپ بنی اسمعیل،یہ ان کا خالص افتراءتھا سارے نبیوں نے ہمارے حضور کی پیش گوئی کی۔داؤد علیہ السلام یہ دعا کیسے مانگ سکتے تھے۔تعجب ہے کہ یہ دونوں ابھی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کر چکے اور اب یہ بہتان باندھ رہے ہیں۔بعض یہود یہ بھی کہتے تھے کہ حضور فقط مشرکین عرب کے نبی ہیں،ہمارے نہیں۔شاید ان کا یہ مقصد ہو۔اور یہ بھی غلط تھا۔توریت و زبور میں خبر تھی کہ محمدمصطفی سارے عالم کے نبی ہوں گے،تمام شریعتوں کے ناسخ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 58