- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 59
باب:بڑے گناہوں اور نفاق کی علامات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 59
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِيمَانِ الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تُكَفِّرُهٗ بِذَنْبٍ وَلَا تُخْرِجُهٗ مِنَ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُذْ بَعَثَنِيَ اللّٰهُ إِلٰى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ هٰذِهٖ الْأُمَّةِ الدَّجَّالَ لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ وَ الْإِيْمَانُ بِالْأَقْدَارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ثلاث من أصل الإيمان الكف عمن قال لا إله إلا الله تكفره بذنب ولا تخرجه من الإسلام بعمل والجهاد ماض مذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر هذه الأمة الدجال لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل و الإيمان بالأقدار» . رواه أبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزیں ایمان کی بنیاد ہیں ۱؎جولَااِلٰہَ اِلّا ﷲکہے اس سے زبان روکنا ۲؎یعنی محض گناہ سے اُسے کافر نہ کہے۳؎اور نہ اسے اسلام سے خارج جانے محض کسی عمل سے ۴؎اور جہاد جاری ہے جب سے مجھے رب نے بھیجا یہاں تک۵؎کہ اس امت کی آخری جماعت دجال سے جہاد کرے۶؎جہاد کو ظالم کا ظلم، منصف کا انصاف باطل نہیں کرسکتا۷؎اور تقدیروں پر ایمان ۸؎(ابو داؤد)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی جس پر ایمان کی عمارت قائم ہے۔جن کے بغیر انسان مؤمن نہیں ہوسکتا۔
۲؎اسے کافر نہ کہنا۔کلمہ پڑھنے سے مراد سارے اسلامی عقائد کا ماننا ہے جیسا کہ ہم بارہا عرض کرچکے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے اس کا بھی یہی مطلب ہے محض کلمہ پڑھ لینا،کعبہ کی طرف منہ کرلینا ایمان کے لئے کافی نہیں، منافقین یہ دونوں کام کرتے تھے مگر کافر تھے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمّت کے ۷۳ فرقے ہوں گے ایک کے سوا سب جہنمی خوارج کی خبر دی کہ بڑے نمازی اور قرآن خوان ہوں گے مگر دین سے ایسے دور ہوں گے جیسے چھوٹا ہوا تیر کمان سے اس تفسیر کی تائید اگلے مضمون سے ہورہی ہے۔
۳؎اس میں خوارج کی تردید ہے جو گناہ کبیرہ کو کفر اورگنہگار کو کافر کہتے ہیں۔یہ جملہ پچھلے مضمون کی تفسیر ہے یعنی گناہ بدعملی ہے کفر نہیں۔خیال رہے کہ بعض گناہ علامت کفر ہے،اس لئے فقہاء انہیں کفر قرار دیتے ہیں۔جیسے زنّار باندھنا،بت کو سجدہ کرنا،قرآن کریم کو گندگی میں پھینکنا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کسی چیز کا مذاق اڑانا،بے ادبی کرتے ہوئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر آواز بلند کرنا رب فرماتا ہے:"لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ" اور فرماتاہے:"فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ"الخ،نیز فرماتا ہے: "اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ"الخ۔یہ گناہ اس لئے کفر ہیں کہ کفر کی علامتیں ہیں۔لہذا حدیث قرآن متعارض نہیں۔
۴؎اس میں معتزلہ کا ردہے۔جوکہتے ہیں کہ گناہ کبیرہ والا نہ مؤمن ہے نہ کافربلکہ فاسق ہے۔حالانکہ کفرواسلام کے درمیان کوئی درجہ نہیں۔
۵؎مدینہ طیّبہ کی طرف کیونکہ ہجرت سے پہلے جہاد فرض نہ تھا۔
۶؎یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی مسلمانوں کے ساتھ دجّال اور اس کی جماعت پر تلوار کا جہاد کریں گےکیونکہ عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہوں گے۔چونکہ دجّال کے بعد تمام دنیا مسلمان ہوجائے گی،کوئی کافر نہ رہے گا اورحضرت عیسیٰ و امام مہدی کی وفات کے کچھ عرصہ بعد دنیا میں کفر ہی ہوگا کوئی مؤمن نہ رہے گا اس لیے یہ جہاد آخری ہوگا اس کے بعد کوئی جہاد نہ ہوگا۔خیال رہے کہ اگرچہ بعض پچھلی شریعتوں میں بھی جہاد تھا مگر اسلامی جہاد اور اس کے قوانین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوکرقتلِ دجّال تک رہیں گے۔لہذاحدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۷؎یعنی ہرمنصف اور ظالم بادشاہ کے ساتھ مل کر کفّار پر جہاد کرو اس میں اشارۃ دو مسئلے بتائے گئے:ایک یہ کہ جہاد کے لیے سلطان اسلام یاامیر المسلمینشرط وجوب ہے۔دوسرے یہ کہ فاسق فاجر بادشاہ کے ماتحت بھی کفّار سے جہاد لازم ہے۔صحابہ کرام نے حجاج ابن یوسف جیسے فاسق حاکم کے ساتھ کفار پر جہاد کیے ہیں۔اس میں قادیانیوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جہاد منسوخ کردیا۔جہاد نماز کی طرح محکم اور ناقابل نسخ عبادت ہے۔جہاد کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔رب فرماتا ہے:"وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ"۔
۸؎تقدیر کی پوری بحث ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"پارہ سوم میں ملاحظہ کرو۔یہاں صرف اتنا ہی سمجھ لو کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ اللہ کے علم اور اس کے ارادہ سے ہے ہم اپنے اعمال کے کاسِب ہیں،خالق نہیں۔لہذا ہم کسب میں مختار اورخلق میں مجبور ہیں نہ قادرمطلق نہ مجبور محض یہی مذہبِ اہلسنت ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 59