Main Icon

باب :جوتے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4418

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدٰى اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه. وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ: ثُمَّ تَوَضَّأ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.

وعن ابن بريدة عن أبيه أن النجاشي أهدى الى النبي صلى الله عليه وسلم خفين أسودين ساذجين فلبسهما. رواه ابن ماجه. وزاد الترمذي عن ابن بريدة عن أبيه: ثم توضأ ومسح عليهما.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن بریدہ سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎کہ نجاشی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سیاہ سادہ موزے ہدیۃً بھیجے حضور نے انہیں پہنا ۱؎(ابن ماجہ)اور ترمذی نے ابن بریدہ عن ابیہ سے یہ زیادتی کہ پھر حضور نے وضو کیا اور ان پر مسح کیا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎بعض نسخوں میں ابوہریدہ ہے مگر غلط ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ ابوبریدہ کنیت ہے عبداللہ ابن مریدہ کی ،بریدہ ابن خصیب اسلمی صحابی ہیں ،عبد اللہ ابن بریدہ مرو کے حاکم تھے سلیمان ابن بریدہ کے بھائی ہیں دونوں بھائی ثقہ ہیں مگر حضرت عبد اللہ بہت شاندار ہیں۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎اصحمہ یعنی نجاشی جو شاہ حبشہ تھے پہلے عیسائی تھے پھر حضرت عبداللہ ابن جعفر وغیرہم صحابہ کرام کی تبلیغ پر مسلمان ہوئے، انہوں نے خالص سیاہ رنگ کے چمڑے کے موزے حضور انور کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجے حضور نے انہیں پہنے،بعض علماء فرماتے ہیں کہ موزے سیاہ رنگ کے بہتر ہیں اور جوتے پیلے رنگ کے افضل۔بہتر یہ ہےکہ موزے سادہ ہوں ان پر دھاگے وغیرہ کے نقش و نگار نہ ہوں۔
۳
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ جناب نجاشی رضی اللہ عنہ نے حضور کی خدمت میں ایک خط بھیجا اور قمیص پاجامہ چادر اور موزوں کا جوڑا بھیجا خط میں لکھا تھا کہ میں نے آپ کا نکاح بی بی ام حبیبہ سے کردیا ہے آپ کی قوم سے ہیں میرے ملک میں ہیں حضور قبول فرمائیں اور یہ حقیر سے ہدایا تحفے میں منظور کریں سرکار نے منظور فرمائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کپڑے یا جوتے اگرچہ کفار نے بنائے ہوں بغیر تحقیق کیے پہنے جاسکتے ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ وہ پاک ہوں گے بلاوجہ ناپاک نہ سمجھو۔(مرقات)معلوم ہوا کہ حضور انور نے پاجامہ کا ہدیہ قبول کیا ہے مگر پہننا ثابت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4418