Main Icon

باب :جوتے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4413

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ لِنَعْلِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ مُثَنًّى شِرَاكُهُمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن ابن عباس قال: كان لنعل رسول الله صلى الله عليه وسلم قبالان مثنى شراكهما. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتہ شریف کے دو تسمے تھے جو دوتسموں سے بٹے ہوئے تھے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎قبال اور شراک دونوں کے معنی ہیں تسمہ مگر شراک اکہرے تسمہ کو کہتے ہیں قبال بٹے ہوئے کو یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک جوتا شریف میں دو تسمہ ہوتے تھے ہر تسمہ بٹا ہوا،اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق کے نعلین پاک کا حال تھا ایک تسمہ کا جوتا سب سے پہلے حضرت عثمان غنی نے پہنا بیان جواز کے لیے اب مروجہ جوتوں میں تسموں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔اس زمانہ میں چپل کا رواج عام تھا وہ بھی تسمہ والی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4413