Main Icon

باب :جوتے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4411

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُحْفِهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يمشي أحدكم في نعل واحدة ليحفهما جميعا أو لينعلهما جميعا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی ایک جوتا میں نہ چلے یا تو دونوں پاؤں ننگے کرے یا دونوں میں جوتے پہن لے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ممانعت کراہت تنزیہی کی ہے اسی حکم میں کرتہ اچکن وغیرہ کا پہننا ہے کہ کرتے اچکن کی ایک آستین پہن لینا دوسری یوں ہی لٹکتی رکھنا ممنوع ہے۔یہاں مرقاۃ میں اس حکم کی بہت سی حکمتیں بیان فرمائیں: ایک یہ ہے کہ یہ طریقہ شیطان کا ہے کہ وہ ایک جوتہ پہن کر چلتا ہے،نیز اس طرح چلنا کچھ دشواربھی ہوتا ہے خصوصًا جب کہ جوتی کچھ اونچی ہو اور جگہ ناہموار ہو،نیز یہ طریقہ شرفاء کا نہیں اور یہ کم عقلی کی علامت ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت میں جو آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ایک جوتا شریف میں چلتے دیکھا وہ یا تو اس حکم سے منسوخ ہے یا وہ عمل شریف گھر کے اندر کا ہے اور یہ حکم شریف یا باہر سڑک کا یا وہ حکم بیان جواز ے لیے ہے اور یہ حکم بیان استحباب کے لیے یا وہ اتفاقًا نادر تھا، یہ ممانعت ہمیشگی اور عادت ڈال لینے سے ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس کی پوری تحقیق کتب فقہ میں ملاحظہ فرمائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4411