Main Icon

باب:استبراء کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3341

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: إِذَا وُهِبَتْ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ، أَوْ بِيعَتْ، أَوْ أُعْتِقَتْ فَلْتَسْتَبْرِئْ رَحِمَهَا بِحَيْضَةٍ وَلَا تُسْتَبْرَأُ الْعَذْرَاءُ،رَوَاهُمَا رَزِينٌ.

وعن ابن عمر: أنه قال: إذا وهبت الوليدة التي توطأ، أو بيعت، أو أعتقت فلتستبرئ رحمها بحيضة ولا تستبرأ العذراء،رواهما رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے انہوں نے فرمایا کہ جب وہ لونڈی جس سے وطی کی جاتی تھی ہبہ کی جائے یا فروخت کی جائے یا آزاد کی جائے تو اس کا استبراء رحم ایک حیض سے کرلیا جائے اور کنواری کا استبراء نہ کیا جائے ۱؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حضرت ابن عمر کی رائے شریف ہے کہ کنواری لونڈی جو پہلے کسی کے نکاح میں نہ تھی یا جس کا خاوند بہت چھوٹا بچہ تھا جو صحبت نہیں کرسکتا تھا یا ابھی اس کی رخصتی نہ ہوئی تھی کہ گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی اس کے استبراء کی ضرورت نہیں کیونکہ استبراء تو یہ معلوم کرنے کو ہوتا ہے کہ لونڈی حاملہ ہے یا نہیں ان صورتوں میں حمل کا احتمال ہی نہیں تو استبراء کی کیا ضرورت ہے مگر تمام علماء فرماتے ہیں کہ استبراء کے وجوب کا سبب ملکیت حاصل ہونا ہے لہذا ایسی لونڈی سے استبراء کیا جائے، دیکھو اگر عورت کا خاوند خلوت سے پہلے فوت ہوجائے تو بھی عدت واجب ہے حالانکہ وہاں حمل کا احتمال ہی نہیں،گزشتہ احادیث میں ہر لونڈی کے استبراء کا حکم دیا گیا،نیز حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوۂ اوطاس کی تمام لونڈیوں سے استبراء کاحکم دیا حالانکہ ان میں بعض کنواریاں بھی تھیں،غالبًا حضرت ابن عمر کو وہ احادیث پہنچی نہیں اور قیاس صحابی حدیث مرفوع کے مقابل معتبر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3341