Main Icon

باب:استبراء کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3340

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن مَالِكٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِاسْتِبْرَاءِ الإِمَاءِ بِحَيْضَةٍ إِنْ كَانَتْ مِمَّنْ تَحِيضُ، وَثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ إِنْ كَانَت مِمَّن لَا تَحِيضُ، وَيَنْهَى عَنْ سَقْيِ مَاءِ الْغَيْرِ.

عن مالك قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر باستبراء الإماء بحيضة إن كانت ممن تحيض، وثلاثة أشهر إن كانت ممن لا تحيض، وينهى عن سقي ماء الغير.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے ۱؎کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم لونڈی سے استبراء کرنے کا حکم دیتے تھے ایک حیض سے اگر وہ حائضہ میں سے ہو اور تین مہینوں سے اگر ان میں سے ہو جنہیں حیض نہیں آتا۲؎اور منع فرماتے تھے دوسرے کے پانی سے سیرابی سے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎امام مالک تبع تابعین سے ہیں لہذا اس حدیث میں تابعی و صحابی دونوں کا ذکر نہیں یا یہ حدیث مرسل ہے یا مسند مگر اسناد کا ذکر نہیں،چونکہ امام مالک بڑےپایہ کے محدث ہیں اس لیے ان کی بغیر اسناد والی حدیث بھی قبول ہے جیسے تعلیقات بخاری مقبول ہیں۔
۲
؎اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ استبراء میں حیض تو ایک ہی کافی ہے اختلاف اس میں ہے کہ استبراء کے لیے مہینہ ایک کافی ہے یا تین ضروری بعض علماء تین ماہ مانتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے مگر جمہور علماء ایک مہینہ کافی مانتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مہینہ حیض کے قائم مقام ہے جب حیض ایک کافی ہوا تو مہینہ بھی ایک ہی کافی ہونا چاہیے۔(نووی مرقات)
۳
؎یعنی دوسرے کے پانی دیئے ہوئے کھیت میں اپنا پانی نہ دو کہ دوسرے کی حاملہ عورت سے تم صحبت نہ کرو تاکہ بچہ دو باپوں کا مخلوط نہ ہوجائے کیونکہ حاملہ عورت سے صحبت کی جائے تو بچہ کے بال وغیرہ میں اس پانی کی آمیز ش ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3340